شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 505 of 670

شیطان کے چیلے — Page 505

501 فرقہ کے امام تو کہتے ہیں کہ مسلمان وہی ہے جو اس حدیث کو سچا مانتا ہے۔جو نہیں مانتا وہ مسلمان ہی نہیں۔پس شیعہ کیا اور سنی کیا، وہابی کیا اور بریلوی کیا یہ تمام لوگ اس حدیث پر متفق ہیں اور تسلیم کرتے چلے آرہے تھے کہ آنحضرت ﷺ نے سچ فرمایا ہے۔مگر 7 ستمبر 1974ء کو پاکستان پر جو قیامت ٹوٹی وہ یہ تھی کہ اس دن ان سب نے جماعت احمدیہ کی تکذیب کے شوق میں نعوذ باللہ من ذلک، حضرت محمد مصطفی ﷺ کی تکذیب سے دریغ نہیں کیا اور بڑی جرأت اور بے حیائی کے ساتھ یہ اعلان کیا کہ یہ حدیث معاذ اللہ جھوٹی تھی ، ہمارے بزرگ جھوٹے تھے جو اس حدیث کو سچا تسلیم کر گئے۔گویا 1974 ء کی اسمبلی کو اکثریت کے زعم میں مسئلہ یوں سمجھ آیا کہ بہتر سچے ہیں اور ایک جھوٹا ہے، بہتر جنتی ہیں اور ایک ناری ہے۔چنانچہ اس مسئلہ کا فخر سے اعلان کیا گیا اور کیا جاتا رہا اور یہی مسئلہ ہے جس کو موجودہ حکومت کی طرف سے بھی مزعومہ قرطاس ابیض میں اچھالا جارہا ہے۔غرض یہ ایک بہت بڑی جسارت اور بغاوت تھی جس کا7 ستمبر 1974ء کو قومی اسمبلی نے ارتکاب کیا حالانکہ جماعت احمدیہ کے اس وقت کے امام کی طرف سے قومی اسمبلی کے سامنے بار بار اور کھلے لفظوں میں تنبیہ کی گئی تھی کہ تم شوق سے ہمارے دشمن بن جاؤ جو کچھ چاہو ہمیں کہتے رہولیکن خدا کے لئے اسلامی مملکت پاکستان میں حضرت محمد مصطفی ﷺ کے خلاف تو علم بغاوت بلند کرنے کی جسارت نہ کرو۔کل تک تم یہ مانتے چلے آ رہے تھے کہ اگر بہتر اور ایک کا جھگڑا چلا تو بہتر ضرور جھوٹے ہوں گے اور تہتر واں ضرور سچا ہو گا اس لئے کہ اصدق الصادقین کی پیشگوئی ہے کہ بہتر جھوٹے ہوں گے یعنی اکثریت جھوٹی ہوگی اور ایک فرقہ سچا ہو گا۔مگر آج جماعت احمدیہ کو جھوٹا بنانے کے شوق میں تم یہ اعلان کر رہے ہو کہ بہتر بیچتے ہیں اور صرف ایک جھوٹا ہے۔اس کا تو گویا یہ مطلب بنتا ہے کہ معرفت کا جو نکتہ ان کو سمجھ میں آ گیا ہے وہ نعوذ باللہ من ذلك حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی سمجھ میں نہیں آیا۔یہ دراصل اعلانِ بغاوت تھا جو آنحضرت کے خلاف کیا گیا۔ایسے لوگ اسلام میں رہ ہی نہیں سکتے۔اور کوئی جرم تھا یا نہیں مگر جس دن حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے واضح ارشاد کے خلاف کھلی کھلی بغاوت کا ارتکاب کیا گیا اس دن ضرور یہ غیر مسلم بن گئے تھے۔کیونکہ آنحضور ﷺ کا ارشاد شک وشبہ سے بالا ہے۔اور چوٹی کے علماء اور مختلف فرقوں کے بانی مبانی اسے مانتے چلے آئے ہیں بلکہ اسے اسلام کی پہچان قرار دیتے رہے ہیں۔مگر یہ سب کے سب اس دن ایسے پاگل ہو گئے اور ان کی عقلیں ایسی ماری گئیں کہ 7 ستمبر کو یہ اعلان کر دیا کہ بہتر فرقے اکٹھے