شیطان کے چیلے — Page 501
497 آئیں گے جو بنی اسرائیل پر آئے تھے جن میں ایسی مطابقت ہوگی جیسے ایک پاؤں کے جوتے کی دوسرے پاؤں کے جوتے سے ہوتی ہے۔یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی اپنی ماں سے بدکاری کا مرتکب ہوا تو میری امت میں بھی کوئی ایسا بد بخت نکل آئے گا۔بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں بٹ گئے تھے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی۔لیکن ایک فرقہ کے سوا باقی سب آگ میں ہوں گے۔صحابہ نے پوچھا یہ ناجی فرقہ کون سا ہے تو حضور نے فرمایا وہ فرقہ جو میری اور میرے صحابہ کی سنت پر عمل پیرا ہو گا۔یا جس کے حالات میرے اور میرے صحابہ نجیسے ہوں گے۔یہ دونوں معنے ہیں یعنی جس حال پر تم مجھے اور میرے صحابہ کو پاتے ہو۔اس فرقہ کو اس حال پر پاؤ گے۔جن خیالات و عقائد پر مجھے اور میرے صحابہ کو پاتے ہو ان خیالات اور عقائد پر اگر کسی فرقہ کو پاؤ گے تو وہ میرے والا فرقہ ہے اور وہی ناجی فرقہ ہے۔وہابیوں کے امام اور مسلمان کی تعریف یہ حدیث ایک بہت بڑی اہمیت کی حامل ہے۔خصوصاً اس ٹولے کے لئے جو آجکل پاکستان پر مسلط کیا جارہا ہے جسے وہابی اہلحدیث ٹولہ کہا جاتا ہے کیونکہ اس ٹولے کے بانی حضرت امام محمد بن عبدالوہاب رحمۃ اللہ علیہ ایک بہت بڑے موحد بزرگ گزرے ہیں۔مسلمانانِ حجاز کی بھاری اکثریت ان کو بارھویں صدی کا مجد د تسلیم کرتی ہے وہ حدیث نبوی ، ستفترق هذه الامة على ثلاث وسبعين فرقة كلهم في النار الاً واحدةً کہ ” میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی سب آگ میں ہوں گے سوائے ایک کے۔‘ درج کر کے فرماتے ہیں: وو " فهذه المسئلة اجل المسائل۔“ کہ یہ مسئلہ اجل مسائل میں سے ہے۔اور پھر فرماتے ہیں فمن فهمها فهو الفقيه ومن عمل بها فهو المسلم“۔(مختصر سیرت رسول اللہ صفحہ 18۔امام محمد بن عبدالوہاب مطبوعہ قاہرہ) یعنی جہتر فرقوں میں سے بہتر کے ناری اور ایک کے جنتی ہونے کا مسئلہ ایک عظیم الشان مسئلہ ہے جو اسے سمجھتا ہے وہی فقیہہ ہے اور جو اس پر عمل کرتا ہے۔یعنی بہتر فرقوں کو عملا ناری اور ایک کو جنتی قرار دیتا ہے صرف اور صرف وہی مسلمان ہے۔یعنی امام محمد بن عبد الوہاب نے مسلمان کی تعریف یہاں پہنچ کر یہ کر دی کہ