شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 499 of 670

شیطان کے چیلے — Page 499

495 بنصرہ العزیز نے حکومت پاکستان کی طرف سے شائع کردہ قرطاس ابیض کو زیر بحث لاتے ہوئے اپنے خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا تھا۔وہ تفصیلی جواب ان لوگوں کے کارنامے کی خوب قلعی کھولتا ہے۔چنانچہ آپ نے فرمایا: 74 ء کی قومی اسمبلی نے جو کچھ کیا وہ تو احمدیت کی سچائی کا اتنا عظیم الشان نشان ہے کہ اس زمانے میں اتنا عظیم الشان نشان شاذ کے طور پر آپ کو نظر آئے گا لیکن۔۔۔۔۔۔پہلے میں نام نہادا کثریت کے بارہ میں بعض علماء کی آراء کے چند نمونے آپ کے سامنے رکھتا ہوں پھر میں دوسری بات کی طرف آؤں گا۔سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری کہتے ہیں:۔ہم نام نہادا کثریت کی تابعداری نہیں کریں گے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اکثریت باطل پر ہے۔“ ( سوانح حیات بخاری۔صفحہ 116۔اخبار زمزم لاہور 30 اپریل1939ء) مولوی اشرف علی صاحب تھانوی جو آج کل کے دیو بندیوں کے بہت بڑے بزرگ سمجھے جاتے ہیں ان کے متعلق ماہنامہ البلاغ کراچی بابت ماہ جولائی 1976 ء صفحہ 59 پر لکھا ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”آج کل جمہوریت کو شخصیت پر ترجیح دی جا رہی ہے۔(74ہ ء کا یہ جمہوری فیصلہ ہی تھا نا جس کو اچھالا جا رہا ہے ) اور کہتے ہیں کہ جس طرف کثرت ہو وہ سوادِ اعظم ہے۔اسی زمانہ میں میرے ایک دوست نے اس کے متعلق ایک عجیب اور لطیف بات بیان کی تھی۔( اور واقعہ وہ بات اتنی لطیف ہے کہ اگر کسی مولوی صاحب کے ذہن میں آجاتی تو بڑا تعجب ہوتا۔ان کے ایک دوست کو سمجھ آئی ہے لیکن ان مولوی صاحب میں یہ سعادت تھی کہ ان کی کچی بات کو انہوں نے پسند کیا اور پھر اس کو اپنا کر آگے پیش کیا۔بات واقعی بہت لطیف ہے کہتے ہیں کہ جو میرے دوست نے عجیب بات بیان کی وہ یہ تھی کہ اگر سواد اعظم کے معنی یہ بھی مان 66 لئے جائیں کہ جس طرف زیادہ ہوں تو ہر زمانہ کے سواد اعظم مراد نہیں بلکہ خیر القرون کا زمانہ مراد ہے۔“ یعنی آنحضرت ﷺ نے جس سوادِ اعظم کا ذکر فرمایا ہے اگر اس کے لفظی معنے مان لئے جائیں کہ سواد اعظم سے مرادا کثریت ہی ہے تو کہتے ہیں کہ میرے دوست نے بتایا کہ اس سے مراد پھر بھی یہ نہیں ہے کہ ہر زمانہ کا سوادِ اعظم یا ہر زمانہ کی اکثریت بلکہ خیر القرون مراد ہے یعنی وہ زمانہ جو آنحضرت ﷺ کے اپنے ارشادات کے مطابق نیکی کا زمانہ تھا، سچائی کا زمانہ تھا، روشنی کا زمانہ تھا جس کو حضور نے خود خیر القرون