شیطان کے چیلے — Page 484
480 مفتری اسی دنیا میں ہلاک ہو گا۔بلکہ خدا کے بچے نبیوں اور مامورین کے لئے سب سے پہلی یہی دلیل ہے کہ وہ اپنے کام کی تکمیل کر کے مرتے ہیں اور ان کو اشاعت دین کے لئے مہلت دی جاتی ہے اور انسان کی اس مختصر زندگی میں بڑی سے بڑی مہلت تئیس برس ہیں کیونکہ اکثر نبوت کا ابتداء چالیس برس پر ہوتا ہے اور تنیس برس تک اگر اور عمر ملی تو گویا عمدہ زمانہ زندگی کا یہی ہے اسی وجہ سے میں بار بار کہتا ہوں کہ صادقوں کے لئے آنحضرت ﷺ کی نبوت کا زمانہ نہایت صحیح پیمانہ ہے اور ہرگز ممکن نہیں کہ کوئی شخص جھوٹا ہو کر اور خدا پر افتراء کر کے آنحضرت ﷺ کے زمانہ نبوت کے موافق یعنی تنیس برس تک مہلت پاسکے ضرور ہلاک ہو گا۔اس بارے میں میرے ایک دوست نے اپنی نیک نیتی سے یہ عذر پیش کیا تھا کہ آیت لو تقول علینا میں صرف آنحضرت ﷺے مخاطب ہیں اس سے کیونکر سمجھا جائے کہ اگر کوئی دوسرا شخص افتراء کرے تو وہ بھی ہلاک کیا جائے گا؟ میں نے اس کا یہی جواب دیا تھا کہ خدا تعالیٰ کا یہ قول محل استدلال پر ہے اور منجملہ دلائل صدق نبوت کے یہ بھی ایک دلیل ہے اور خدا تعالیٰ کے قول کی تصدیق تبھی ہوتی ہے کہ جھوٹا دعوی کر نیوالا ہلاک ہو جائے ورنہ یہ قول منکر پر کچھ حجت نہیں ہوسکتا اور نہ اس کے لئے بطور دلیل ٹھہر سکتا ہے بلکہ وہ کہہ سکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا تیس برس تک ہلاک نہ ہونا اس وجہ سے نہیں کہ وہ صادق ہے بلکہ اس وجہ سے ہے کہ خدا پر افتراء کرنا ایسا گناہ نہیں ہے جس سے خدا اسی دنیا میں کسی کو ہلاک کرے کیونکہ اگر یہ کوئی گناہ ہوتا اور سنت اللہ اس پر جاری ہوتی کہ مفتری کو اسی دنیا میں سزا دینا چاہیے تو اس کے لئے نظیر میں ہونی چاہئے تھیں۔اور تم قبول کرتے ہو کہ اس کی کوئی نظیر نہیں بلکہ بہت سی ایسی نظیریں موجود ہیں کہ لوگوں نے تئیس برس تک بلکہ اس سے زیادہ خدا پر افتراء کئے اور ہلاک نہ ہوئے۔تو اب بتلاؤ کہ اس اعتراض کا کیا جواب ہوگا“ اربعین نمبر 4 روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 435،434) آپ نے اس منطقی دلیل کو قرآنی اصول سے ثابت کرتے ہوئے بھی واضح فرمایا کہ لازم ہے کہ قرآن شریف کی دلیل کو بنظر تحقیر دیکھنے سے خدا سے ڈریں۔صاف ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آیت لَوْ تَقَوّلَ عَلَيْنَا کو بطور لغو نہیں لکھا جس سے کوئی حجت قائم نہیں ہوسکتی۔اور خدا تعالیٰ ہر ایک لغو کام سے پاک ہے۔پس جس حالت میں اس حکیم نے اس آیت کو اور ایسا ہی اس دوسری آیت کو جس کے یہ الفاظ ہیں۔إِذًا لَّاَذَقْنَكَ ضِعْفَ الحَيوةِ وَضِعْفَ المَمَاتِ ( بنی اسرائیل : 76) محل استدلال پر