شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 473 of 670

شیطان کے چیلے — Page 473

469 ہوگا۔سوایسا ہی وقوع میں آیا۔کیونکہ چاند کی تیرھویں رات میں جو قمر کی خسوفی راتوں میں سے پہلی رات ہے خسوف واقع ہو گیا اور حدیث کے مطابق واقع ہو اور نہ مہینہ کی پہلی رات میں قمر کا گرہن ہونا ایسا ہی بدیہی محال ہے جس میں کسی کو کلام نہیں۔وجہ یہ کہ عرب کی زبان میں چاند کو اسی حالت میں قمر کہہ سکتے ہیں جبکہ چاند تین دن سے زیادہ کا ہو اور تین دن تک اس کا نام ہلال ہے نہ قمر۔اور بعض کے نزدیک سات دن تک ہلال ہی کہتے ہیں۔چنانچہ قمر کے لفظ میں لسان العرب وغیرہ میں یہ عبارت ہے۔هـو بـعـد ثلاث ليال الـى آخر الشهر یعنی چاند کا قمر کے لفظ پر اطلاق تین رات کے بعد ہوتا ہے پھر جبکہ پہلی رات میں جو چاند نکلتا ہے وہ قمر نہیں ہے اور نہ قمر کی وجہ تسمیہ یعنی شدت سپیدی و روشنی اس میں موجود ہے تو پھر کیونکر یہ معنے صحیح ہوں گے کہ پہلی رات میں قمر کو گرہن لگے گا۔یہ تو ایسی ہی مثال ہے جیسے کوئی کہے کہ فلاں جوان عورت پہلی رات میں ہی حاملہ ہو جائے گی۔اور اس پر کوئی مولوی صاحب ضد کر کے یہ معنے بتلا دیں کہ پہلی رات سے مراد وہ رات ہے جس رات وہ لڑکی پیدا ہوئی تھی تو کیا یہ معنے صحیح ہوں گے؟ اور کیا ان کی خدمت میں کوئی عرض نہیں کرے گا کہ حضرت پہلی رات میں تو وہ جوان عورت نہیں کہلاتی بلکہ اس کو صبیہ یا بچہ کہیں گے۔پھر اس کی طرف حمل منسوب کرنا کیا معنے رکھتا ہے؟ اور اس جگہ ہر ایک عظمند یہی سمجھے گا کہ پہلی رات سے مراد زفاف کی رات ہے جبکہ اوّل دفعہ ہی کوئی عورت اپنے خاوند کے پاس جائے۔اب بتلاؤ کہ اس فقرے میں اگر کوئی اس طرح کے معنے کرے تو کیا وہ معنے آپ کے نزدیک صحیح ہیں ؟ اس بنیاد پر کہ خدا ہر ایک چیز پر قادر ہے اور کیا آپ ایسا خیال کرلیں گے کہ وہ جوان عورت پیدا ہوتے ہی اپنی پیدائش کی پہلی رات میں ہی حاملہ ہو جائے گی۔اے حضرات ! خدا سے ڈرو۔جبکہ حدیث میں قمر کا لفظ موجود ہے اور بالا تفاق قمر اس کو کہتے ہیں جو تین دن کے بعد یا سات دن کے بعد کا چاند ہوتا ہے تو اب ہلال کو کیونکر قمر کہا جائے۔ظلم کی بھی تو کوئی حد ہوتی ہے۔پھر ظاہر ہے کہ جبکہ قمر کے گرہن کے لئے تین راتیں خدا کے قانونِ قدرت میں موجود ہیں اور پہلی رات چاند کے خسوف کی تین راتوں میں سے مہینہ کی تیرہویں رات ہے اور ایسا ہی سورج کے گرہن کے لئے خدا کے قانون قدرت میں تین دن ہیں اور بیچ کا دن سورج کے کسوف کے دنوں میں سے مہینہ کی اٹھائیسویں تاریخ ہے تو یہ معنے کیسے صاف اور سید ھے اور سریع الفہم اور قانونِ قدرت پر مبنی ہیں کہ مہدی کے ظہور کی یہ نشانی ہوگی کہ چاند کو اپنے گرہن کی مقررہ راتوں میں سے جو اس کے لئے خدا نے ابتداء سے مقرر کر رکھی ہیں