شیطان کے چیلے — Page 472
468 کائنات حضرت محمد مصطفی احمد محیت میں اللہ کے فرمودہ کے عین مطابق، چودہ سوسال بعد دو دفعہ مقررہ تاریخوں پر گرہن لگنا انتہائی نادر و نایاب اور حیرت انگیز ہے۔جہاں تک معلوم تفصیلات ہمارے سامنے ہیں متصل دو سال یکے بعد دیگرے رمضان کی 13 اور 28 تاریخوں پر چاند اور سورج گرہن کبھی وقوع پذیر نہیں ہوئے۔اس لئے اس لحاظ سے بھی بلاشبہ یہ ایک نادر الوقوع عقیم نشان ہے۔وو الغرض را شد علی اور اس کے پیر کا یہ ترجمہ کہ وہ دو نشانیاں یہ ہیں کہ رمضان کی پہلی رات میں چاند گرہن ہوگا اور سورج گرہن رمضان کے نصف میں ہوگا۔“ قرآن کریم کی آیات مذکورہ بالا ( سورہ یسین 39 تا 41 ) کے صریح خلاف ہے اور قانون قدرت کے کلیۂ منافی ہے۔بالفاظ دیگر یہ ترجمہ نہ خدا تعالیٰ کے قول کے مطابق ہے نہ اس کے فعل کے۔لہذا یہ ترجمہ جھوٹا اور مردود ہے اس کے بالمقابل وہی ترجمہ سچا اور حقیقت افروز ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمایا۔یہ ترجمہ خدا تعالیٰ کے قول اور اس کے فعل کے بھی مطابق ہے اور آنحضرت ﷺ کے فرمان اور منشاء کے مطابق بھی۔باقی رہا یہ اعتراض کہ چاند کا گر ہن اس کے گرہن کی پہلی راتوں میں نہیں بلکہ رمضان کی پہلی رات میں ہونا چاہئے تھا اسی طرح سورج کا گرہن اس کے گرہن کے دنوں میں سے درمیانے کی بجائے ماہ رمضان کی درمیانی تاریخ کو ہونا چاہئے تھا۔اس کا جواب دیتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: دوسرا اعتراض مخالفین کا یہ ہے کہ یہ پیشگوئی اپنے الفاظ کے مفہوم کے مطابق پوری نہیں ہوئی۔کیونکہ چاند کا گرہن رمضان کی پہلی رات میں نہیں ہوا بلکہ تیرھویں رات میں ہوا اور نیز سورج کا گرہن وو الله رمضان کی پندرھویں تاریخ کو نہیں ہوا بلکہ 28 تاریخ کو ہوا۔اس کا جواب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس گرہن کے لئے کوئی نیا قاعدہ اپنی طرف سے نہیں تراشا بلکہ اسی قانون قدرت کے اندر اندر گرہن کی تاریخوں سے خبر دی ہے جو خدا نے ابتداء سے سورج اور چاند کے لئے مقرر کر رکھا ہے۔اور صاف لفظوں میں فرما دیا ہے کہ سورج کا کسوف اس کے دنوں میں سے بیچ کے دن میں ہوگا۔اور قمر کا خسوف اس کی پہلی رات میں ہوگا۔یعنی ان تین راتوں میں سے جو خدا نے قمر کے گرہن کے لئے مقرر فرمائی ہیں پہلی رات میں خسوف