شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 471 of 670

شیطان کے چیلے — Page 471

467 اہل نجوم کے نزدیک چاند گرہن سورج کے مقابل آنے سے ایک خاص حالت میں سوائے 13، 14، 15 اور اسی طرح سورج گرہن بھی خاص شکل میں سوائے 27 28 29 تاریخوں کے کبھی نہیں لگتا۔( ترجمه از صفحه 344) اسی طرح ” مقبول یزداں مجد د دوراں حضرت مولانا سید ابو احمد رحمانی “ اپنی تالیف ” دوسری شہادت آسمانی“ کے صفحہ نمبر 13 پر لکھتے ہیں:۔ہو 66 چاند گہن کے لئے عادۃ اللہ یہ ہے کہ تاریخ 13 ،15،14 کو ہواورسورج گہن 29،28،27 کو یادر ہے کہ مؤلف کی نسبت اور ان کے بطور ماہر فلکیات و عالم دین بلند مقام کی بابت اس کتاب کے اندرون ٹائٹل پر درج قصیدہ میں بیان ہے۔ماهر هیئت و تقویم وحدیث :: ناصح مشفق نے بہر دوستاں حضرت اقدس ابو احمد لقب :: عالم دیں رہنمائے گھر ہاں الغرض حدیث نبوی ﷺ میں مذکور پیشگوئی میں بتایا گیا ہے کہ نشان کسوف وخسوف کے سلسلہ میں چاند گرہن اپنی ( گرہن کی تاریخوں میں سے) پہلی اور سورج گرہن ( اپنی گرہن کی تاریخوں میں سے ) درمیان والی تاریخ کو لگے گا یعنی چاند گرہن 13 اور سورج گرہن 28 تاریخ کو رمضان میں ظاہر ہوگا۔اگر کوئی مکذب ان کے علاوہ تاریخوں کا بہانہ بنا کر فرار کی اختیار کرنا چاہتا ہے تو وہ نہ صرف مامور زمانہ کی تکذیب کرتا ہے بلکہ حدیث نبوی کی تکذیب کا بھی ارتکاب کرتا ہے۔باقی رہا یہ مسئلہ کہ ماضی میں چاند سورج کے گرہنوں کے درمیان اس مذکورہ بالا گرہن کی کیا اعجازی شان تھی تو واضح ہو کہ گزشتہ چودہ صدیوں میں ایک سو سے زائد دفعہ چاند اور سورج گرہن رمضان کے مہینہ میں ظاہر ہوا۔مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ٹھیک سوویں نمبر پر 1894ء بمطابق 1311ھ کے رمضان میں یہ گرہن عین مقررہ تاریخوں پر لگے اور اگلے ہی سال دوبارہ 1895ء بمطابق 1312ھ کے رمضان میں پھر ظاہر ہوئے اور مدعی مہدویت کے مقام ظہور ، قادیان دارالامان میں دوسرے سال بھی تاریخیں 13 اور 28 ہی تھیں۔حالانکہ چاند کا آغاز یعنی اس کی پہلی تاریخ کا تعین آج بھی کسی قدر دشوار ہے لیکن سرورِ