شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 466 of 670

شیطان کے چیلے — Page 466

462 انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 294) ’ یہ حدیث ایک پیشگوئی پرمشتمل تھی جو اپنے وقت پر پوری ہوگئی پس جبکہ حدیث نے اپنی سچائی کو آپ ظاہر کر دیا تو اس کی صحت میں کیا کلام ہے۔۔۔اس حدیث کو تو کسی شخص نے وضعی قرار نہیں دیا۔اور اہلِ سنت اور شیعہ دونوں میں پائی جاتی ہے اور اہلِ حدیث خوب جانتے ہیں کہ محد ثین کا فتوی قطعی طور پر کسی حدیث کے صدق یا کذب کا مدار نہیں ٹھہر سکتا۔“ جناب ڈاکٹر راشد علی صاحب ! جس طرح ایک زندہ شخص کے لئے تم جیسے ڈاکٹر کا Death certificate دے دینا اسے ہرگز مردہ نہیں بنا سکتا اسی طرح آج سے چودہ سو سال پہلے کی بیان فرمودہ پیشگوئی کو خدا تعالیٰ نے جب پوری تفصیلات ، جزئیات اور شان کے ساتھ ظاہر فرما دیا ہے تو تمہارا جھوٹ اسے کس طرح چھپا سکتا ہے؟ اصل سچائی وہی ہے جسے خدا تعالیٰ نے اپنی فعلی شہادت سے ظاہر کر دیا۔ہاں اس کو جھٹلانے والاضرور جھوٹا ہے۔لو تمہارے جھوٹ کو پوری طرح کھولنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلا نے انعام بھی مقرر کر دیا ہے۔اگر تم اس پینج پر پورے اترے تو تمہیں دو فائدے ہوں گے۔اول یہ کہ سو روپیہ تمہیں مل جائے اور دوم یہ کہ تمہارے چہرے سے جھوٹ کی لعنت کا ایک داغ اتر جائے گا۔لیکن واضح رہے کہ اِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَلَنْ تَفْعَلُوا (البقرة:25) تم ہر گز اس چیلنج کو قبول نہیں کر سکتے کیونکہ تمہارے آباء بھی ایسا نہیں کر سکے۔وہ چیلنج پیش کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” اگر در حقیقت بعض راوی مرتبہ اعتبار سے گرے ہوئے تھے تو یہ اعتراض دارقطنی پر ہو گا کہ اس نے ایسی حدیث کولکھ کر مسلمانوں کو کیوں دھوکا دیا ؟ یعنی یہ حدیث اگر قابل اعتبار نہیں تھی تو دار قطنی نے اپنی صحیح میں کیوں اس کو درج کیا ؟ حالانکہ وہ اس مرتبہ کا آدمی ہے جو صحیح بخاری پر بھی تعاقب کرتا ہے اور اس کی تنقید میں کسی کو کلام نہیں اور اس کی تالیف کو ہزار سال سے زیادہ گذر گیا مگر اب تک کسی عالم نے اس حدیث کو زیر بحث لا کر اس کو موضوع قرار نہیں دیا۔نہ یہ کہا کہ اس کے ثبوت کی تائید میں کسی دوسرے طریق سے مدد نہیں ملی بلکہ اس وقت سے جو یہ کتاب ممالک اسلامیہ میں شائع ہوئی تمام علماء وفضلاء متقدمین و متاخرین میں سے اس حدیث کو اپنی کتابوں میں لکھتے چلے آئے۔بھلا اگر کسی نے اکابر محد ثین میں سے اس حدیث کو موضوع ٹھہرایا ہے تو ان میں سے کسی محدث کا فعل یا قول پیش تو کرو جس میں لکھا ہو کہ یہ حدیث موضوع ہے اور اگر کسی جلیل الشان محدث کی کتاب سے اس حدیث کا موضوع ہونا ثابت کر سکو تو ہم فی الفور ایک سوروپیہ