شیطان کے چیلے — Page 24
24 نے آخری زمانہ میں ایجاد ہونا تھا اور اس کی وجہ سے سفر میں آسانی اور سرعت پیدا ہوئی تھی۔پیشگوئی کے مطابق اس سواری کی آواز بھی اس قدر بلند ہوئی تھی کہ جوزمین و آسمان میں سنائی دینی تھی۔اس پیشگوئی میں یہ واضح اشارہ بھی تھا کہ اس سواری کی تیز رفتاری اور اس پر سفر کی سہولت کی وجہ سے لوگ دوسری سواریوں سے بے نیاز ہو جائیں گے۔یہاں تک کہ اونٹ جو کہ پہلے عموما لمبے سفروں کے لئے استعمال ہوتے تھے ان کو بھی ترک کر دیا جائے گا۔چنانچہ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خدا تعالیٰ فرماتا ہے: وَإِذَا الْعِشَارُ عُطْلَت “ (التكوير : 5) ترجمہ: اور جب اونٹنیاں معطل ہوں گی۔اور فرمایا: وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيْرَ لِتَرْكَبُوْهَا وَزِيْنَةٌ وَيَخْلُقُ مَالَا تَعْلَمُوْنَ “ (أَحْل:9) ترجمہ: اور اس نے گھوڑوں، خچروں اور گدھوں کو تمہاری سواری کے لئے اور زینت کے لئے ( پیدا کیا ہے) اور وہ ( تمہارے لئے سواری کا مزید سامان بھی ) جسے تم جانتے نہیں، پیدا کرے گا۔یعنی اللہ تعالیٰ بعض ایسی سواریاں پیدا کرے گا جن کی حقیقت و ماہیت کا ابھی علم نہیں ، وہ بعد میں ظاہر ہوں گی۔اور حدیث میں بھی آیا ہے کہ ليُتْرَكُنَّ القَلَاصُ فَلَا يُسْعَى عَلَيْهَا مسلم کتاب الفتن باب نزول عیسی بن مریم) کہ اونٹنیاں ترک کر دی جائیں گی اور ان سے تیزی کے کام نہیں لئے جائیں گے۔اس بارہ میں صاحب مرقاۃ شرح مشکوۃ نے لکھا ہے: ” وَالْمَعْنَى أَنَّهُ يُتْرَكُ الْعَمَلُ عَلَيْهَا اسْتِغْنَاءٌ عَنْهَا لِكَثْرَةِ غَيْرِهَا۔“ (مرقاة المفاتح - الجزء الخامس صفحہ 122 - مکتبہ میمنیہ مصر ) کہ اس سے مراد یہ ہے کہ ان سے کام لینا چھوڑ دیا جائے گا کیونکہ اور بہت سی سواریاں پیدا ہو جائیں گی جو اُن سے مستغنی کر دیں گی۔حقیقت یہ ہے کہ یہ پیشگوئیاں اس قدر حقیقت افروز اور سچی ہیں کہ واقعہ آج لوگ اونٹوں سے مستغنی ہو چکے ہیں۔کیونکہ يَخْلُقُ مَالَا تَعْلَمُونَ کے مطابق قسم قسم کی نئی سواریاں ایجاد ہو چکی ہیں، ریل