شیطان کے چیلے — Page 25
25 25 گاڑیاں ، بحری جہاز ، ہوائی جہاز وغیرہ وغیرہ سواریوں نے ان کی جگہ لے لی ہے۔یہ سب سوار بڑی تیزی سے چلتی ہیں۔دھواں اگلتی ہیں، بڑی اونچی آواز سے اپنے مسافروں کو بلاتی ہیں ، نہ وہ تھکتی ہیں اور نہ ماندہ ہوتی ہیں۔رہاد قبال کے گدھے کا سمندر میں داخل ہونا اور پانی کا اس کے ٹخنوں تک پہنچنا تو یہ ہ شخص جانتا ہے کہ بحری جہاز جب سمندر میں چلتا ہے تو پانی میں مخنوں تک ہی جاتا ہے جبکہ اس کا باقی حصہ او پر رہتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آنحضرت ﷺ کی اس مذکورہ بالا پیشگوئی کی جو تو جیہ اور تفسیر بیان فرمائی ہے ، صرف وہی تشریح ہے جو اسے سچا اور برحق ثابت کرتی ہے۔وہی حقیقت افروز تو جیہہ ہے۔آپ فرماتے ہیں: از انجملہ ایک بڑی بھاری علامت دقبال کی ، اس کا گدھا ہے جس کے بین الا ذنین کا اندازہ ستر باع کیا گیا ہے اور ریل کی گاڑیوں کا اکثر اسی کے موافق سلسلہ طولانی ہوتا ہے اور اس میں بھی کچھ شک نہیں کہ وہ دخان کے زور سے چلتی ہے جیسے بادل ہوا کے زور سے تیز حرکت کرتا ہے۔اس جگہ ہمارے نبی ﷺ نے کھلے کھلے طور پر ریل گاڑی کی طرف اشارہ فرمایا ہے چونکہ یہ عیسائی قوم کا ایجاد ہے جن کا امام و مقتدا یہی دقبالی گروہ ہے اس لئے ان گاڑیوں کو دقبال کا گدھا قرار دیا گیا۔اب اس سے زیادہ اور کیا ثبوت ہوگا کہ علامات خاصہ دجال کے انہیں لوگوں میں پائے جاتے ہیں۔انہیں لوگوں نے مکروں اور فریبوں کا اپنے وجود پر خاتمہ کر دیا ہے اور دین اسلام کو وہ ضرر پہنچایا ہے جس کی نظیر دنیا کے ابتداء سے نہیں پائی جاتی اور انہیں لوگوں کے متبعین کے پاس وہ گدھا بھی ہے جو دخان کے زور سے چلتا ہے جیسے بادل ہوا کے زور سے۔“ 66 (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 493) دابتہ الارض :- دابتہ الارض یعنی زمین کے کیڑے کے بارہ میں آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی کے جو معنے اس کی سچائی کو ثابت کر سکتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وہی معنے کئے ہیں چنانچہ آپ نے جہاں اس کے تعبیری معنے یہ کئے کہ اس سے مراد ز مینی علوم سے آراستہ مگر آسمانی روح سے عاری انسان مراد ہیں وہاں اس کے ظاہری معنوں کے لحاظ سے زمین کا ایک کیڑا مراد ہے جو طاعون کی شکل میں ظاہر ہوا۔چنانچہ آپ کے پیش فرمودہ دونوں معنوں کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔آپ فرماتے ہیں: