شیطان کے چیلے — Page 455
451 نے صرف اور صرف ”مهدینا “ یعنی اپنے ہی مہدی کو یہ نشان دیئے ہیں کسی اور کو نہیں دیئے خواہ وہ سچا ہو یا جھوٹا۔چونکہ راشد علی اور اس کا پیر بہر حال جھوٹے ہیں اس لئے سادہ اور صاف عبارتیں بھی ان کی عقلوں پر پردے ڈال دیتی ہیں۔فهم لا يعقلون۔چند مدعیان کی جو فہرست انہوں نے پیش کی ہے اس میں ایک مدعی بھی ایسا نہیں جس کے لئے یا جس کے دعوے کی تائید کے لئے حدیث نبوی میں مذکور تفصیلات کے مطابق یہ نشان ظاہر ہوئے ہوں۔یہی تو اس حدیث نبوی کا اعجاز ہے اور اس کی صداقت کی دلیل ہے کہ وہ ہر جھوٹے مدعی کو بھی رڈ کرتی ہے اور ان جھوٹوں کو پیش کرنے والے جھوٹوں کا بھی خوب پول کھولتی ہے۔وہ مدعیان جن پر ان جھوٹے پیر ومرید نے اکتفا کیا ہے اور ان کے علاوہ دیگر بھی جن کو یہ پیش نہیں کر سکے ان سب میں کسی کے وقت میں یا تو کسوف و خسوف کی تاریخیں حدیث میں مذکور تاریخوں سے مختلف تھیں یا کسی نے دعوئی ہی کسوف و خسوف کے ظہور کے بعد کیا اور کئی ایک ایسے تھے کہ انہیں اس پیشگوئی کا علم تک نہ تھا۔لہذا انہیں اسے بطور نشان اپنے لئے پیش کرنے کی توفیق ہی نہ ملی اور وہ حدیث میں مذکور دل افادہ سے استفادہ نہ کر سکے کیونکہ در حقیقت وہ ”مهدینا“ کے مطابق آنحضرت ﷺ کے مہدی نہ تھے۔پس یہ پیشگوئی اور اس میں مذکور نشانات محض اور محض بچے مدعی مہدویت حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کے لئے ہی تھے اور آپ کے علاوہ اور کسی کے لئے نہیں تھے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں : ہمیں اس بات سے بحث نہیں کہ ان تاریخوں میں کسوف و خسوف رمضان کے مہینہ میں ابتداء دنیا سے آج تک کتنی مرتبہ واقع ہوا ہے۔ہمارامد عا صرف اس قدر ہے کہ جب سے نسل انسان دنیا میں آئی ہے ، نشان کے طور پر یہ کسوف و خسوف میرے زمانہ میں میرے لئے واقع ہوا ہے اور مجھ سے پہلے کسی کو یہ اتفاق نصیب نہیں ہوا کہ ایک طرف تو اس نے مہدی موعود ہونے کا دعوی کیا ہو اور دوسری طرف اس کے دعوئی کے بعد رمضان کے مہینہ میں مقرر کردہ تاریخوں میں خسوف وکسوف بھی واقع ہو گیا ہو اور اس نے اس کسوف و خسوف کو اپنے لئے ایک نشان ٹھہرایا ہو۔۔۔غرض صرف کسوف و خسوف خواہ ہزاروں مرتبہ ہوا اس سے بحث نہیں۔نشان کے طور پر ایک مدعی کے وقت صرف ایک دفعہ ہوا ہے اور حدیث نے ایک مدعی مہدویت کے وقت میں اپنے مضمون کا وقوع ظاہر کر کے اپنی صحت اور سچائی کو ثابت کر