شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 439 of 670

شیطان کے چیلے — Page 439

437 اور دقائق بیان فرمائے ہیں۔علاوہ ازیں اس کتاب میں آپ نے اس تلخ حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اسلام کے دشمنوں نے گلشن اسلام کو ویران کرنے کے لئے کیا کیا حربے اختیار کئے ، جن کے ذریعہ انہوں نے مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد کو اسلام سے برگشتہ کر کے عیسائیت کی گود میں ڈال دیا ہے۔انہوں نے اسلام کے سرسبز و شاداب باغ کو اجاڑنے کے لئے جنگل کے درندوں کا روپ دھار کر بانی اسلام حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ذات بابرکات پر گندے حملے کئے۔انہوں نے ترکش میں سب وشتم سے مسموم جتنے تیر تھے وہ چلا دیئے۔ان تلخیوں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان دشمنانِ اسلام کا اس مذکورہ بالا شعر میں ذکر فرمایا ہے۔جس کو راشد علی اور اس کے پیر نے خوامخواہ ان لوگوں کی طرف منسوب کر دیا ہے جن کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسی کتاب میں اپنی قوم اور اپنا بھائی“ قرار دیا ہے۔راشد علی اور اس کے پیر کی عیاری ملاحظہ فرمائیں کہ وہ عامتہ المسلمین سے اپنے کسی انتقام کوتسکین دینے کے لئے اور جماعت احمدیہ پر اپنے بغض کا زہر اگلنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریروں کو غلط معنے پہنا کر سادہ لوح مسلمانوں پر چسپاں کرتے ہیں اور پھر الٹا الزام بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ کے لئے اپنی طبعی غیرت کے فطرتی جوش سے آپ کے ناموس کا دفاع کرتے ہوئے یہ نظم ان گندہ دہن اور بد زبان عیسائی پادریوں کے بارہ میں تحریر فرمائی ہے جو آنحضرت ﷺ کو گالیاں دیتے تھے اور گلشن اسلام کو اجاڑ کر ویران جنگلوں کی مانند بنارہے تھے۔اسی طرح اس نظم میں آپ نے عیسائیوں کی نام نہادمتنا دعورتوں کا بھی ذکر کیا ہے جو سادہ لوح مسلمانوں کے گھروں میں داخل ہو کر انہیں ہر قسم کے لالچ اور ہر نوع کی ترغیب دے کر اسلام سے مرتد کر رہی تھیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: احب لنا فبحبه نتحبب وعن المنازل والمراتب نرغب اني ارى الدنيا وبلدة اهلها جدبت وارض ودادنا لا تجدب