شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 436 of 670

شیطان کے چیلے — Page 436

434 اچھے معنے مہیا کر رہی ہو تو انصاف اور دیانتداری کا تقاضہ یہی ہے کہ اس جگہ اچھے معنے ہی چسپاں کئے جائیں۔چنانچہ لغت میں لکھا ہے: الجيش۔اقلبت البغايا ـ اى الطلائع التي تكون قبل ورود الجيش۔“ ( اقرب الموارد۔زیر لفظ بنی ) یعنی بغایا کے معنی وہ دستے بھی ہیں جو لشکر فوج کے آگے ہوتے ہیں یعنی سرخیل لشکر یا مقدمہ یہی معنے تاج العروس المنجد اور Lane میں بھی درج ہیں۔نیز ذریۃ کے معنے تابع اور زیر اثر کے بھی ہوتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: " أَفَتَتَخِذُوْنَهُ وَذُرِّيَّتَهُ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُوْنِي “ (الكهف: 51) کہ کیا تم مجھے چھوڑ کر اس (شیطان) کی ذریت کو دوست بناتے ہو۔شیطان کی نہ تو بیوی ہے نہ اولا د پس یہاں مراد اس کے پیروکار اور اس کے تابع ہو کر چلنے والے ہیں اور وہ لوگ مراد ہیں جن پر وہ وحی کرتا ہے اور ان کے ذریعہ اپنے نوٹس بھجواتا ہے وغیرہ وغیرہ بہر حال ذریۃ البغایا سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وہ لوگ مراد لئے ہیں جو لیڈروں کے زیرِ اثر ہیں اور ان کے پیروکار ہیں، وہ آپ کی تصدیق نہیں کرتے جبکہ غیر جانبدار لوگ تصدیق کرتے ہیں۔ان معنوں کے درست ہونے پر قرینہ یہ بھی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام غیر احمد یوں کو احمدی بنانا چاہتے ہیں۔اگر وہ انہیں ( نعوذ باللہ ) طوائفوں کی اولا د اور حرامزا دے کہیں گے تو پھر ان کی یہ توقع کہ وہ احمدی ہو جائیں گے خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔پس وہ اچھا معنی جو ہم کرتے ہیں اور جسے مناسب سمجھتے ہیں وہ ہم نے ایک دلیل کے ساتھ پیش کر دیا ہے۔راشد علی اور اس کا پیر اس کے علاوہ دوسرے سخت اور نامناسب اور بُرے معنے کرنا چاہتے ہیں تو ہم انہیں روک تو نہیں سکتے۔وہ خود مختار ہیں۔ان کے سامنے دونوں معنے موجود ہیں۔جو معنے وہ اپنے لئے پسند کرنا چاہیں ان کی اپنی مرضی ہے لیکن انہیں یہ حق نہیں ہے کہ وہ دوسرے مسلمانوں پر بھی وہ معنے صادر کریں جو ہم نہیں کرتے۔اور نہ ہم انہیں یہ اجازت دیتے ہیں کہ وہ اپنے لئے پسند کردہ معنے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عبارت کو پہنائیں۔