شیطان کے چیلے — Page 429
427 چاچڑاں شریف والے اور حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء کے بیان قابل غور ہیں۔اسی طرح پنجاب کے مشہور صوفی شاعر حضرت میاں محمد بخش کا کلام جو پنجاب میں زبان زد عام ہے اور اس کی کیسٹس جگہ جگہ دستیاب ہیں۔اس میں سے ایک مصرع یہ ہے کہ وو در مرشد دا خانہ کعبہ، حج ضروری کریئے“ اور ایک اور نظم کا ایک مصرع یہ بھی ہے کہ وو مرشد دا دیدار ہے مینوں باہو، لکھ کروڑاں حجاں“ ظاہر ہے کہ حضرت میاں صاحب یہاں مکہ مکرمہ میں بیت اللہ کا ذکر نہیں کر رہے۔بلکہ پیر ومرشد کے مسکن و مقام کی بات کر رہے ہیں لیکن ہر کوئی جانتا ہے کہ وہ پیر ومرشد کے در کو یا اس کے گھر کو خانہ کعبہ کے مقابل پر نہیں رکھ رہے بلکہ اس کے ظل کے طور پر ہی بیان کر رہے۔اور حج بھی وہ نہیں ہے جو خانہ کعبہ کا ہے اور اسلام کے ارکان میں سے چوتھا رکن ہے۔پس اس قسم کے بیانات کو ہدف اعتراض بنا نامحض معترض کی جہالت کا ثبوت ہے۔مذکورہ بالا مثالوں میں یہ بات بھی نوٹ کرنے والی ہے کہ ان بزرگوں نے ایسے فرمودات میں وہ احتیاط نہیں برتی جو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد رضی اللہ عنہ نے لفظ ”ظل“ بیان کر کے برقی ہے۔تاکہ کسی اور مقام کے ایسے قصد کو کوئی بیت اللہ کے حج کے ساتھ خلط ملط نہ کر سکے۔لیکن برا ہو تعصب اور جھوٹ کا کہ ان میں ڈوب کر راشد علی اور اس کے پیر نے حقیقت حال کو سمجھتے ہوئے ، عمداً اسے بیت اللہ کے حج کے ساتھ خلط ملط کرنے کی کوشش کی ہے۔حالانکہ اسی خطبہ میں ، جس کا اس نے حوالہ دیا ہے،حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حج کی عبادت کا حصہ تو بے شک باقی ہے اور وہ رہتی دنیا تک باقی رہے گا جس طرح نماز کا فریضہ ہے اسی طرح یہ بھی فرض ہے کہ ہر صاحب استطاعت مسلمان مقررہ دنوں میں وہاں اللہ تعالیٰ کی عبادت 66 کرے۔‘“ نیز قادیان کے سفر کا ذکر کرتے ہوئے مزید واضح فرمایا کہ 66 (خطبہ جمعہ 25 نومبر 1932ء) اس میں عبادت کا حصہ نہیں وہ صرف مکہ مکرمہ سے ہی مخصوص ہے۔“ (حوالہ مذکورہ بالا )