شیطان کے چیلے — Page 428
426 ( مجموعہ اشتہارات۔جلد 3 صفحہ 291 حاشیہ) وہ آیت کریمہ جس کو راشد علی نے اپنے اعتراض کی بنیاد بنا کر پیش کیا ہے اس آیت کریمہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مذکورہ بالا مضمون میں دلیل کے طور پر بیان فرمایا ہے۔اس جگہ نہ بیت الفکر کا کہیں ذکر ہے نہ حرم کعبہ کا۔نا معلوم راشد علی پر ابلیس کب نازل ہوا اور اس پر یہ جھوٹ الہام کر گیا جو اس نے جماعت احمدیہ پر تھوپنے کی کوشش کی ہے۔پس لعنۃ اللہ علی الکاذبین۔(9) قادیان جاناظتی حج را شد علی نے ” متوازی امت“ کے عنوان کے تحت لکھا ہے۔قادیان جاناظلی حج قرار پا گیا۔(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل جلد 20 نمبر 66 مورخہ یکم دسمبر 1932ء)‘ جماعت احمدیہ حج بیت اللہ کے حج کو ہی حقیقی حج سمجھتی ہے اور اسی کا ہی قصد کرتی ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود حضرت حافظ احمداللہ رضی اللہ عنہ کو بھجوا کر اپنی طرف سے حج بدل کرایا۔آپ کے پہلے خلیفہ حضرت حکیم نورالدین رضی اللہ عنہ نے بھی بیت اللہ کا حج کیا۔اسی طرح آپ کے فرزند اور دوسرے خلیفہ، جن کے ایک بیان کو راشد علی نے ہدف اعتراض بنایا ہے یعنی حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد رضی اللہ عنہ نے بھی 1912 ء میں بیت اللہ کا حج ادا کیا۔پس جماعتِ احمدیہ کے نزدیک اصل حج ، مکہ میں بیت اللہ ہی کا حج ہے جوار کانِ اسلام میں سے چوتھا رکن ہے۔جہاں تک دیگر مقامات پر حاضر ہونے کا تعلق ہے، اسے ظلی حج قرار دینا کوئی اعتراض کا محل نہیں ہوسکتا۔کیونکہ ایسی حاضری نہ حج بیت اللہ کے مقابل پر کی جاتی ہے اور نہ وہ شریعت کے اس رکن کی تنسیخ کرتی ہے۔ایسی حاضری ایک الگ قسم کا قصد ہے جو امت کے بزرگ صوفیاء کے کلام میں جگہ جگہ مذکور ہے۔جیسا کہ ہم نے اسی باب میں اعتراض نمبر 6 کے جواب میں مختلف مثالیں پیش کی ہیں۔اُن میں حضرت خواجہ غلام فرید