شیطان کے چیلے — Page 20
20 اللہ ﷺ کی ہی ذات بابرکات ہے کیونکہ ہر احمدی کو یہ مرض لاحق ہے کہ وہ ہر بات کو رسول اللہ ﷺ کی ذات پر لے جاتا ہے۔البتہ راشد علی معترض ایسا ہے کہ اپنی باتوں کو شیطان کی طرف لے جاتا ہے کیونکہ اس کی توجہ کا وہی محور ہے۔ہراحمدی ہر بات کو اپنے آقا ومولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ذات پر کیوں لے کر جاتا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ سچائی اور صداقت کا ایک ایسا معیار ہیں کہ آپ کے بغیر کسی کی سچائی اور صداقت کا ثبوت قائم نہیں ہوسکتا۔آپ ہی کی تصدیق کسی کی صداقت پر مہر ثبت کرتی ہے۔اسلئے جب کوئی مسیح زماں و مہدی دوراں حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوۃ والسلام پر کوئی اعتراض کرتا ہے یا آپ پر کوئی الزام لگاتا ہے تو احمدی فوراً اس کیس کو اپنے آقا و مولیٰ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے پاس لے جاتا ہے۔جب آپ کی جناب سے اس اعتراض کے جھوٹا ہونے کا ثبوت مل جاتا ہے تو وہ اس معترض کو جھوٹا قرار دے کر مردود کر دیتا ہے۔پس راشد علی کو میرا مشورہ ہے کہ وہ بھی اس مرض میں گرفتار ہو جائے تو جھوٹ اور شیطان سے آزاد ہو سکتا ہے۔اور اگر اپنی ہر بات ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد ﷺ کے پاس لے جائے تو ہدایت حاصل کر سکتا ہے۔بہر حال راشد علی نے از خود احمدی کی ایک ایسی خوبی اور صفت کو بیان کر دیا ہے جس پر سید المرسلین خاتم النبین حضرت محمد مصطفی ﷺ کی مہر تصدیق ثبت ہے۔کیا خوب فرمایا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کہ بعد از خدا بعشق محمد محترم گر کفر این بود بخند اسخت کا فرم ترجمہ خدا تعالیٰ کے بعد میں محمد ﷺ کے عشق میں سرشار ہوں۔اگر یہ کفر ہے تو خدا کی قسم میں سخت کافر ہوں۔اور اگر یہ مرض ہے تو یہ بہت ہی برکتوں والا مرض ہے جو ہمیں بہت ہی پیارا اور عزیز از جان ہے۔