شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 19 of 670

شیطان کے چیلے — Page 19

19 ترجمہ:۔اگر ایک وقت ایمان ثریا تک بھی اُڑ گیا تو ان میں سے ( یعنی عجمیوں میں سے ) ایک یا اس سے زیادہ لوگ اسے واپس لے آئیں گے۔لہذا ہمیں تو اسی کے ذریعہ ہی خدا تعالیٰ ، آنحضرت ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان نصیب ہوا ہے جس کے بارہ میں ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ کی پیشگوئی تھی۔بس فرق یہ ہے کہ جماعت احمدیہ نے قرآنِ کریم پر ایمان اور عمل اور آنحضرت ﷺ سے عشق اور آپ کی اعلیٰ وارفع ذات کا عرفان اور آپ کی سنت مبارکہ پر عمل آپ ہی کی پیشگوئیوں کے مطابق ، آپ ہی کے امتی اور غلام، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ حاصل کیا ہے۔جبکہ راشد علی نے ماہی گیروں کی زمین پر غاصبانہ قبضہ کرنے والے، روٹی دیر سے ملنے پر مغلوب الغضب ہو کر روٹی لانے والے بچے پر چاقو نکال لینے والے اور دن رات سگریٹ نوشی کرنے والے پیر ، عبد الحفیظ سے جھوٹ اور تلبیس کے سوا اور کچھ نہیں ili: احمدیت کی تمام تر توجہ کا محور آنحضرت یہ نہیں بلکہ مرزا غلام احمد - مرزا غلام کی ذات ہے راشد علی اور اس کے پیر نے لکھا ہے کہ " غرضیکہ قادیانیت/ احمدیت کی صورت میں ایک ایسی جماعت پیدا کر دی گئی جس کی تمام تر توجہ کا محور حضور علی سے ہٹ کر مرزا غلام احمد کی ذات ہو گئی ہے ہر قادیانی اس ماض میں گرفتار ہے۔آپ اس سے مرزا کی ذات کے بارہ میں گفتگو کریں وہ سیدھا سرکار دو عالم ﷺ کی ذات پر لے جائے گا۔“ راشد علی کا یہ بیان اس کی خود تر دیدی اور تضاد بیانی کا شاہکار ہے۔ایک طرف تو وہ یہ کہتا ہے کہ تمام تر توجہ کا محور حضور ہے سے ہٹ کر مرزا غلام احمد کی ذات ہوگئی۔“ اور ساتھ ہی وہ اس کو ر ڈ کرتے ہوئے یہ بھی لکھ رہا ہے کہ ہر قادیانی اس مرض میں گرفتار ہے آپ اس سے مرزا کی ذات کے بارہ میں گفتگو کریں وہ سیدھا سرکار دو عالم ﷺ کی ذات پر لے جائے گا۔“ اس کا یہ بیان اس کے اس اقرار کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ہر احمدی کی تمام تر توجہ کا محور دراصل رسول