شیطان کے چیلے — Page 408
406 جنازہ پڑھی جائے گی نہ مسلمانوں کے قبرستان میں اس کا دفن کرنا جائز ہوگا۔اور یہ حکم صرف پرویز ہی کا نہیں بلکہ ہر کا فرکا ہے۔اور ہر وہ شخص جو اس کے متبعین میں ان عقائد کفریہ کے ہمنوا ہو اس کا بھی یہی حکم ہے اور جب یہ مرتد ٹھہرا تو پھر اس کے ساتھ کسی قسم کے بھی اسلامی تعلقات رکھنا شرعاً جائز نہیں ہیں۔“ ولی حسن ٹو کی غفر اللہ مفتی ومدرس عربیہ اسلامیہ نیوٹاؤن کراچی محمد یوسف بنوری شیخ الحدیث مدرسہ عربیہ اسلامی ٹاؤن کراچی ) پرویزیوں کے متعلق جماعت اسلامی کے آرگن تسنیم کا فتویٰ یہ ہے کہ :۔اگر یہ مشورہ دینے والوں کا مطلب یہ ہے کہ شریعت صرف اتنی ہی ہے جتنی قرآن میں ہے باقی اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ شریعت نہیں ہے تو یہ صریح کفر ہے اور بالکل اسی طرح کا کفر ہے جس طرح کا کفر 66 قادیا نیوں کا ہے بلکہ کچھ اس سے بھی سخت اور شدید ہے۔“ ( مضمون مولانا امین احسن اصلاحی - روز نامہ تسنیم لاہور ۵۱ اگست ۲۵۹۱ صفحه ۲۱) (5) پھر کیا احمدی ان شیعوں کے پیچھے نماز پڑھیں جن کے متعلق علماء عامتہ المسلمین ان لرزہ خیز الفاظ میں تنبیہ کرتے ہیں : ” بالجملہ ان رافضیوں تبرائیوں کے باب میں حکم یقینی قطعی اجماعی یہ ہے کہ وہ علی العموم کفار مرتدین ہیں ان کے ہاتھ کا ذبیحہ مردار ہے۔ان کے ساتھ مناکحت نہ صرف حرام بلکہ خالص زنا ہے۔معاذ اللہ مر در افضی اور عورت مسلمان ہو تو یہ سخت قہر الہی ہے۔اگر مردستی اور عورت ان خبیثوں کی ہو جب بھی نکاح ہرگز نہ ہو گا حض زنا ہوگا۔اولا دولد الزنا ہوگی۔باپ کا ترکہ نہ پائے گی اگر چہ اولا د بھی سنتی ہی ہو کہ شرعاً ولد الزنا کا باپ کوئی نہیں۔عورت نہ ترکہ کی مستحق ہوگی نہ مہر کی کہ زانیہ کے لئے مہر نہیں۔رافضی اپنے کسی قریبی کہ باپ بیٹے ماں بیٹی کا بھی ترکہ نہیں پاسکتا۔سنی تو سنی کسی مسلمان بلکہ کسی کافر کے بھی۔یہاں تک کہ خود اپنے ہم مذہب رافضی کے ترکہ میں اس کا اصلاً کچھ حق نہیں۔ان کے مرد عورت ، عالم ، جاہل ،کسی سے میل جول ، سلام کلام سخت کبیره اشد حرام جو ان کے ملعون عقیدوں پر آگاہ ہو کر بھی انہیں مسلمان جانے یا ان کے کا فر ہونے میں شک کرے باجماع تمام آئمہ دین خود کا فربے دین ہے اور اس کے لئے بھی یہی سب احکام ہیں جو ان کے لئے مذکور ہوئے۔مسلمان پر فرض ہے کہ اس فتویٰ کو بگوش ہوش سنیں اور اس پر عمل کر کے بچے پکے سنی بنیں۔“ (فتوی مولانا شاہ مصطفیٰ رضا خاں۔بحوالہ رسالہ ردالرفضہ - صفحہ 23۔شائع کردہ نوری کتب خانہ بازاردا تا صاحب لاہور پاکستان۔مطبوعہ 66