شیطان کے چیلے — Page 405
403 نہیں بلکہ غیر احمدی اکابر علماء کا یہ فتویٰ ہے کہ:۔وو وہابیہ دیو بند یہ اپنی عبارتوں میں تمام اولیاء انبیاء کی کہ حضرت سید الاولین والآخرین اے کی اور خاص ذات باری تعالیٰ شانہ کی اہانت و ہتک کرنے کی وجہ سے قطعاً مرتد و کافر ہیں اور ان کا ارتدادکفر میں سخت سخت سخت اشد درجہ تک پہنچ چکا ہے ایسا کہ جو اِن مرتدوں اور اکفروں کے ارتداد و کفر میں ذرا بھی شک کرے وہ بھی انہیں جیسا مرتد اور کافر ہے۔اور جو اس شک کرنے والے کے کفر میں شک کرے وہ بھی مرتد وکا فر ہے۔مسلمانوں کو چاہئے کہ ان سے بالکل ہی محترز ، مجتنب رہیں۔ان کے پیچھے نماز پڑھنے کا تو ذکر ہی کیا اپنے پیچھے بھی ان کو نماز نہ پڑھنے دیں اور نہ اپنی مسجدوں میں گھنے دیں۔نہ ان کا ذبیحہ کھائیں اور نہ ان کی شادی غمی میں شریک ہوں۔نہ اپنے ہاں ان کو آنے دیں۔یہ بیمار ہوں تو عیادت کو نہ جائیں۔مریں تو گاڑ نے تو اپنے میں شرکت نہ کریں۔مسلمانوں کے قبرستان میں جگہ نہ دیں۔غرض ان سے بالکل احتیاط و اجتناب ر پس وہابیہ دیوبند یہ سخت سخت اشد مرتد و کافر ہیں ایسے کہ جو ان کو کافر نہ کہے خود کافر ہو جائے گا۔اس کی عورت اس کے عقد سے باہر ہو جائے گی اور جو اولا د ہوگی وہ حرامی ہوگی اور از روئے شریعت ترکہ نہ پائے گی۔“ (اناللہ وانا الیہ راجعون۔ناقل ) اس اشتہار میں بہت سے علماء کے نام لکھے ہیں مثلا سید جماعت علی شاہ، حامد رضا خاں قادری نوری رضوی بریلوی، محمد کرم دین بھیں، محمد جمیل احمد بدایونی عمر نعیمی مفتی شرع اور ابومحمد دیدار علی مفتی اکبر آباد یہ فتوے دینے والے صرف ہندوستان ہی کے علماء نہیں ہیں بلکہ جب وہابیہ دیو بندیہ کی عبارتیں ترجمہ کر کے بھیجی گئیں تو افغانستان و خیوا و بخارا و ایران و مصر و روم وشام اور مکہ معظمہ و مدینہ منورہ وغیرہ تمام دیار عرب و کوفہ و بغداد شریف غرض تمام جہان کے علماء اہل سنت نے بالا تفاق یہی فتویٰ دیا ہے۔“ (خاکسارمحمد ابراہیم بھاگلپوری باہتمام شیخ شوکت حسین میجر کے حسن برقی پریس اشتیاق منزل نمبر 63 ہیوٹ روڈ لکھنو میں چھپا۔سن اشاعت درج نہیں قیام پاکستان سے قبل کا فتویٰ ہے ) فتوی مولوی عبد الکریم ناجی داغستانی حرم شریف مکہ : دو هم الكفرة الفجرة قتلهم واجب على من له حد و نصل وافر - بل هو افضل من