شیطان کے چیلے — Page 390
388 راشد علی اور اس کے پیر نے اپنی ” بے لگام کتاب میں بھی اس کا اعادہ کیا ہے اور یہ بیان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف منسوب کیا ہے کہ گویا آپ نے یہ فرمایا ہے کہ ” میں حکومت برطانیہ کا خود کاشتہ پودا ہوں۔اس کے اس جھوٹ پر ہمارا اول جواب تو یہی ہے کہ لعنة الله على الكاذبين نیز ہمارا چیلنج ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کسی کتاب سے یہ بیان نہیں نکال سکتا کہ جس میں آپ نے یہ فرمایا ہو کہ ” میں حکومت برطانیہ کا خود کاشتہ پودا ہوں۔“ جیسا کہ قارئین نے پچھلے صفحات میں ملاحظہ فرمایا ہے کہ اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مخالف مولوی شرمناک منافقت میں مبتلا تھے۔ایک طرف تو وہ خود حکومت وقت کی کاسہ لیسی اور خوشامدوں میں انتہائی گھٹیا ہو رہے تھے تو دوسری طرف اپنے نمبر بنانے کے لئے حکومت کے پاس بار بار ایسی جھوٹی مخبریاں کرتے تھے کہ حکومت کو اس شخص سے ہوشیار رہنا ضروری ہے کیونکہ یہ خونی مہدی ہونے کا دعویدار ہے اور اپنے مریدوں کو فساد کی تحکیم دیتا ہے۔ایسی جھوٹی شکایتوں پر جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام حکومت کے سامنے اپنی پوزیشن واضح کرتے تو وہ مولوی عوام میں یہ منادی کرنے لگتے کہ یہ شخص حکومت کی چاپلوسی کرتا ہے۔ان مولویوں کی ایسی چالوں کے پیش نظر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حکومت کو بتایا کہ میں گورنمنٹ کاغذ ارنہیں بلکہ حکومت کے قوانین کا پوری طرح تابع اور پابند ہوں۔اسی طرح اپنے خاندان کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ وہ اس کا ہمیشہ وفادار رہا ہے اور حکومت کے لئے اس کی بہت خدمات ہیں۔اس لئے کسی قسم کی بغاوت یا فساد کی اس خاندان کے کسی فرد سے توقع نہیں کی جاسکتی۔چنانچہ آپ نے فرمایا: ” مجھے متواتر اس بات کی خبر ملی ہے بعض حاسد بداندیش جو بوجہ اختلاف عقیدہ یا کسی اور وجہ سے مجھ سے بغض اور عداوت رکھتے ہیں یا جو میرے دوستوں کے دشمن ہیں۔میری نسبت اور میرے دوستوں کی نسبت خلاف واقعہ امور گورنمنٹ کے معزب زحکام تک پہنچاتے ہیں۔اس لئے اندیشہ ہے کہ ان کی ہر روز کی مفتریا نہ کاروائیوں سے گورنمنٹ عالیہ کے دل میں بدگمانی پیدا ہو کر وہ تمام جانفشانیاں پچاس سالہ میرے والد مرحوم مرزا غلام مرتضی اور میرے حقیقی بھائی مرزا غلام قادر مرحوم کی جن کا تذکرہ سرکاری چٹھیات اور