شیطان کے چیلے — Page 382
380 جشن تاج پوشی کے موقع پر ملکہ وکٹوریہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اپنی خدمات کا صلہ یوں طلب فرمایا: وو ” سب سے پہلے یہ دعا ہے کہ خدائے قادر مطلق اس ہماری عالیجاہ قیصرہ ہند کی عمر میں بہت برکت بخشے اور اقبال اور جاہ و جلال میں ترقی دے اور عزیزوں اور فرزندوں کی عافیت سے آنکھیں ٹھنڈی رکھے۔۔اس عاجز کو وہ اعلیٰ درجہ کا اخلاص اور محبت اور جوش اطاعت حضور ملکہ معظمہ اور اس کے معزز افسروں کی نسبت حاصل ہے جو میں ایسے الفاظ نہیں پاتا جن میں اس اخلاص کا اندازہ بیان کرسکوں۔اسی سچی محبت اور اخلاص کی تحریک سے جشن شصت سالہ جو بلی کی تقریب پر میں نے ایک رسالہ حضرت قیصرہ ہند دام اقبالہا کے نام سے تالیف کر کے اور اس کا نام تحفہ قیصریہ رکھ کر جناب مدوحہ کی خدمت میں بطور درویشانہ تحفہ کے ارسال کیا تھا اور مجھے قوی یقین تھا کہ اس کے جواب سے مجھے عزت دی جائے گی اور امید سے بڑھ کر میری سرفرازی کا موجب ہوگا۔۔۔مگر مجھے سخت تعجب ہے کہ ایک کلمہ شاہانہ سے بھی میں ممنون نہیں کیا گیا۔لہذا اس حسن ظن نے جو میں حضور ملکہ معظمہ دام اقبالہا کی خدمت میں رکھتا ہوں دوبارہ مجھے مجبور کیا کہ میں اس تحفہ یعنی رسالہ تحفہ قیصریہ کی طرف جناب ممدوحہ کو تو جہ دلاؤں اور شاہانہ منظوری کے چند الفاظ سے خوشی حاصل کروں۔اور میں اپنی جناب ملکہ معظمہ کے اخلاق وسیعہ پر نظر رکھ کر ہر روز جواب کا امیدوار تھا۔اور اب بھی ہوں۔میرے خیال میں یہ غیر ممکن ہے کہ میرے جیسے دعا گو کا وہ عاجزانہ تحفہ جو بوجہ کمال اخلاص خون دل سے لکھا گیا تھا اگر وہ حضور ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کی خدمت میں پیش ہوتا تو اس کا جواب نہ آتا۔بلکہ ضرور آتا ضرور آتا۔اس عریضہ کو نہ صرف میرے ہاتھوں نے لکھا بلکہ میرے دل نے یقین کا بھرا ہوا زور ڈال کر ہاتھوں کو اس پر ارادت خط کے لکھنے کے لئے چلایا ہے میں مع اپنے تمام عزیزوں کے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرتا ہوں کہ یا الہی اس مبارکہ قیصرہ ہند دام ملکہا کو دیرگاہ ہمارے سروں پر سلامت رکھے۔۔۔۔۔اے قیصرہ مبارکہ خدا تجھے سلامت رکھے اور تیری عمر اور اقبال اور کامرانی سے ہمارے دلوں کو خوشی پہنچا وے۔۔۔۔چونکہ یہ مسئلہ تحقیق شدہ ہے کہ دل کو دل سے راہ ہوتا ہے اس لئے مجھے ضرورت نہیں کہ میں اپنی زبان کی لفاظی سے اس بات کو ظاہر کروں کہ میں آپ سے دلی محبت رکھتا ہوں اور میرے دل میں خاص طور پر آپ کی محبت اور عظمت ہے۔ہماری دن رات کی دعا ئیں آپ کے لئے آب رواں کی طرح جاری ہیں۔گو میں جانتا ہوں کہ جس قدر میرے دل میں یہ جوش تھا کہ میں اپنے اخلاص اور اطاعت اور شکر گزاری کو حضور قیصرہ ہند دام ملکہا میں عرض کروں۔پورے طور پر میں اس جوش کو ادا نہیں کر (ستارہ قیصریہ۔روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 111) کتاب) 66۔۔۔۔۔۔سبحان اللہ ! یہ ہیں مرزا صاحب ، ملکہ وکٹوریہ کے عاشق نامراد جوسرکار مدینہ ﷺ سے محبت کے دعویدار ہیں۔“ ( بے لگام آخر میں یہ فقرہ لکھ کر راشد علی نے اپنے سفلی بغض کا اظہار کیا ہے اور استہزاء کی وہی مثال قائم کی ہے جو ہمیشہ سے انبیاء کے مخالفین کی سنت ہے۔