شیطان کے چیلے — Page 368
366 اس کا پس منظر یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں پادری خصوصاًوہ جومسلمانوں سے مرتد ہوئے تھے اسلام پر شدید حملے کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ اسلام تلوار کے جہاد کی تلقین کرتا ہے اور ادھر انگریزی حکومت کو انگیخت کر رہے تھے کہ مسلمانوں کو تباہ و برباد کر کے رکھ دو۔ان میں اٹھنے کی طاقت سلب کر لو۔یہ وہ دور تھا جبکہ عیسائی پادری بڑھ بڑھ کر انگریزوں کو مسلمانوں کے عقیدہ جہاد کی وجہ سے بھڑ کاتے تھے۔یہ پادریوں کا ظالمانہ حملہ تھا اور ان کی اسلام دشمنی کا ثبوت تھا۔وہ چاہتے تھے کہ اس بہانے سے مسلمانوں کو ہندوستان میں کچل دیا جائے اور ہند و طاقت کی سر پرستی کی جائے اور اسے ابھارا جائے جبکہ ہندوؤں کا بھی یہی طریق تھا کہ وہ بار بار انگریز حکام کو مخاطب کر کے توجہ دلاتے تھے کہ اصل خطرہ تمہیں مسلمانوں سے ہے اس لئے ان مرے مٹوں کو اور بھی بالکل مٹا دو، بر باد کر دو، اٹھنے کی طاقت کا خیال ہی ان کے دل سے نکال دو۔پادری عماد الدین سابق واعظ و خطیب جامع مسجد آگرہ جس کا پہلے بھی ذکر آ چکا ہے اس کے ایسے ہی الزامات کا جواب دیتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اس نکتہ چین نے جو جہاد اسلام کا ذکر کیا ہے اور گمان کرتا ہے کہ قرآن بغیر لحاظ کسی شرط کے جہاد پر برانگیختہ کرتا ہے سو اس سے بڑھ کر اور کوئی جھوٹ اور افترا نہیں۔اگر کوئی سوچنے والا ہو۔سو جاننا چاہئے کہ قرآن شریف یوں ہی لڑانے کے لئے حکم نہیں فرما تا بلکہ صرف ان لوگوں کے ساتھ لڑنے کا حکم فرماتا ہے جو خدا تعالیٰ کے بندوں کو اس پر ایمان لانے سے روکیں اور اس کے دین میں داخل ہونے سے روکتے ہیں ހނ اور اس بات سے کہ وہ خدا تعالیٰ کے حکموں پر کار بند ہوں اور اس کی عبادت کریں اور وہ ان لوگوں۔لڑنے کے لئے حکم فرماتا ہے جو مسلمانوں سے بے وجہ لڑتے ہیں اور مومنون کو ان کے گھروں اور وطنوں سے نکالتے ہیں اور خلق اللہ کو جبراً اپنے دین میں داخل کرتے ہیں اور دین اسلام کو نابود کرنا چاہتے ہیں اور لوگوں کو مسلمان ہونے سے روکتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن پر خدا تعالیٰ کا غضب ہے اور مومنون پر واجب ہے کہ ان سے لڑیں اگر وہ باز نہ آویں نور احق حصہ اول - ترجمه از عربی عبارت۔روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 62) یعنی بنفسہ جہاد نہیں، جہاد کے غلط تصورات اسلام کے لئے خطر ناک تھے۔یہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ” تنسیخ جہاد اب اور سنئے ! کس چیز کو حرام قرار دیا ،کس چیز کے یه مفصل مضمون امام جماعت احمدیہ حضرت مرزا طاہر احمد ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے خطبہ جمعہ فرمودہ ۵۱ فروری ۵۸۹۱ ء سے ماخوذ ہے۔