شیطان کے چیلے — Page 352
350 حمیدہ اور اخلاق عالیہ کا تفصیل کے ساتھ ذکر فرمایا ہے اور لکھا ہے کہ وو ولى مناسبة لطيفة بعلى والحسنين ولا يعلم سرّها الا ربّ المشرقين والمغربين 66 (ستر الخلافہ۔روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 359) وانى احب عليّاً وابناه واعادى من عاداه ـ “ کہ مجھے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حسنین رضی اللہ عنہما سے ایک لطیف مناسبت ہے اور اس کے راز کو صرف دو مشرقوں اور مغربوں کا رب ہی جانتا ہے۔اور میں علی رضی اللہ عنہ اور ان کے دونوں بیٹوں سے محبت رکھتا ہوں اور جو آپ سے دشمنی رکھے اس کا دشمن ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جس تحریر پر راشد علی اور اس کے پیر نے اعتراض کیا ہے وہ تحریر بنیادی طور پر حضرت امام باقر رضی اللہ عنہ کی پیشگوئی کے مطابق ہے اور اسی کی عکاسی کرتی ہے۔چنانچہ وہ پیشگوئی گیارہویں صدی کے مشہور شیعہ مجہتد علامہ باقر مجلسی اپنی مشہور کتاب ” بحار الانوار میں درج کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ حضرت امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: " يقول (المهدى) يا معشر الخلائق الا ومن اراد ان ينظر الى ابراهيم واسمعيل فها انا ذا ابراهيم واسمعيل الا ومن اراد ان ينظر الى موسى ويوشع فها انا ذا موسى ويوشع ـ الاً ومن اراد ان ينظر الى محمد وامير المؤمنين صلوات الله عليه) فها انا ذا محمّد صلّى الله عليه وسلّم وامير المؤمنین۔“ (بحار الانوار جلد 13 صفحہ 202 از علامہ محمد باقر مجلسی۔مطبوعہ دار احیاء التراث العربي بيروت) 66 ترجمہ :۔جب امام مہدی آئے گا تو اعلان کرے گا کہ اے لوگو! اگر تم میں سے کوئی ابراہیم اور اسمعیل کو دیکھنا چاہتا ہے تو سن لے کہ میں ہی ابراہیم و اسمعیل ہوں۔اور اگر تم میں سے کوئی موسیٰ اور یوشع کو دیکھنا چاہتا ہے تو سن لے کہ میں ہی موسیٰ اور یوشع ہوں۔اور اگر تم میں سے کوئی محمد ﷺ اور امیر المومنین (علی) کو دیکھنا چاہتا ہے تو سن لے کہ محمد مصطفی ﷺ اور امیر المومنین میں ہی ہوں۔پس حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام نے آکر یہی اعلان فرمایا کہ اب نئی خلافت لو۔ایک زندہ علی تم میں موجود ہے۔“