شیطان کے چیلے — Page 349
347 ستعمال فرماتا ہے کہ وہ مردے میں زندہ نہیں ہیں۔ان ہستیوں میں حضرت عیسی علیہ السلام کی ذات بابرکات بھی ہے مگر مردے کے لفظ سے قرآن کریم نے ان کی تحقیر یا تخفیف نہیں کی بلکہ اس مشر کا نہ تصور کو پاش پاس کیا ہے جو آپ کے بارہ میں عیسائیوں نے عقیدہ کے طور پر قائم کیا۔پس یہ الفاظ تحقیر کے لئے ہرگز نہیں ہیں بلکہ لوگوں کے غلط تصورات کی تردید کے لئے ہیں۔وہ علی رضی اللہ عنہ جو سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی ہے کے بچے اور جانثار خادم تھے اور ان کی عظمت و رفعت اپنے آقا ومولیٰ کے قدموں کو چھونے کی وجہ سے تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دل میں ان کا مرتبہ بہت بلند تھا اور ان کی بے حد عزت و عظمت تھی ، جو آپ کی زبان سے بھی متر قیح تھی اور قلم سے بھی پھوٹتی تھی۔اس پر آپ کی کتاب ”ستر الخلافہ اور دیگر تحریرات و فرمودات شاہد ناطق ہیں۔لیکن وہ غلط تصور جو غالی شیعہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا بیان کرتے ہیں اس کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حقیقی شخصیت سے دور کی بھی نسبت نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسی تصوراتی علی“ کا ذکر کرتے ہوئے مردہ“ کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔لیکن حقیقی علی رضی اللہ عنہ کے بارہ میں اسی بیان میں آپ نے فرمایا کہ میں سچ کہتا ہوں کہ اگر وہ امام جن کے ساتھ یہ اس قدر محبت کا غلو کرتے ہیں ، زندہ ہوں تو ان دو سے سخت بیزاری ظاہر کریں۔“ یعنی حقیقی حضرت علی رضی اللہ عنہ اگر ان میں زندہ موجود ہوں تو چونکہ وہ ان کے باطل تصورات کے مطابق نہیں ہوں گے اس لئے یہ انہیں بھی رد کریں گے اور ان سے بیزاری ظاہر کریں گے۔را شد علی اور اس کے پیر کا مقصد صرف اور صرف شر اور جھوٹ پھیلانا ہے ورنہ ان کو یہ معلوم ہے کہ اہل اسلام خواہ وہ کسی بھی مسلک کے پیروکار ہوں، حضرت علی رضی اللہ عنہ پر درود و سلام تو بھیجتے ہیں مگر ان کی آمد کے منتظر نہیں کیونکہ وہ سب جانتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ وفات پاچکے ہیں لہذا وہ امام منتظر اور ہے جس کی انتظار میں اہل سنت یہ مناجاتیں کرتے تھے کہ دین احمد کا زمانہ ނ جاتا ہے نام ہے اے میرے الله ! ہوتا کیا ہے کس لئے مہدی برحق نہیں ظاہر ہوئے