شیطان کے چیلے — Page 348
346 اپنی حدیثوں کو مرفوع متصل اور ائمہ سے مروی ٹھہراتے ہیں۔ہم کہتے ہیں یہ سب جھگڑے فضول ہیں اب مردہ باتوں کو چھوڑو اور ایک زندہ امام کو شناخت کرو کہ تمہیں زندگی کی روح ملے۔اگر تمہیں خدا کی تلاش ہے تو اس کو ڈھونڈ و جو خدا کی طرف سے مامور ہو کر آیا ہے۔میں تو بار بار یہی کہتا ہوں کہ ہمارا طریق تو یہ ہے کہ نئے سرے سے مسلمان بنو ، پھر اللہ تعالیٰ اس حقیقت کو خود کھول دے گا۔میں سچ کہتا ہوں کہ اگر وہ امام جن کے ساتھ یہ اس قدر محبت کا غلو کرتے ہیں زندہ ہوں تو ان سے سخت بیزاری ظاہر کریں۔جب ہم ایسے لوگوں سے اعراض کرتے ہیں تو پھر کہتے ہیں ہم نے ایسا اعتراض کیا جس کا جواب نہ آیا اور پھر بعض اوقات اشتہار دیتے پھرتے ہیں مگر ہم ایسی باتوں کی کیا پرواہ کر سکتے ہیں۔ہم کوتو وہ کرنا ہے جو ہمارا کام ہے۔اس لئے یاد رکھو کہ پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑ دو۔اب نئی خلافت لو۔ایک زندہ علی تم میں موجود ہے اس کو چھوڑتے ہو اور مردہ علی کو تلاش کرتے ہو۔“ (الحکم 17 نومبر 1900ء۔ملفوظات جلد 2 صفحہ 142،141) اس تفصیلی بیان سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس غالی شیعہ کے سامنے جو تقریر فرمائی اس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کوئی تحقیر مقصود نہیں ، نہ ہی آپ کی شان میں کوئی تخفیف ہے بلکہ ایک ایسی حقیقت کا اظہار ہے جس پر ابتدائے افرینش سے عمل ہو رہا ہے۔زندہ خلیفہ کی موجودگی میں وفات یافتہ خلیفہ کا معاملہ لے بیٹھنا اور اس کی خلافت پر زور دینا اور زندہ امام کی خلافت اور اطاعت کا انکار کرنا اسلام کے بنیادی اصولوں ہی کا انکار ہے اور خدا تعالیٰ کے نزدیک ناپسندیدہ بات ہے۔اسی اہم بات کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہاں توجہ دلائی ہے۔اس عبارت میں مردہ " کا لفظ بھی تحقیر کے لئے استعمال نہیں کیا گیا بلکہ اس سے غالی شیعوں کے اس باطل تصور کو جنجھوڑا گیا ہے اور اس پر چوٹ لگائی گئی ہے جو وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارہ میں رکھتے ہیں مثلاً وہ آپ کو تمام صحابہ سے افضل حتی کہ آنحضرت ﷺ سے بھی بلند و برتر ، نیز مشکل کشا ہی کہ خدا تسلیم کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ایسے ہی اور بھی باطل تصورات ہیں جو عقائد کے طور پر اکثر شیعوں نے اختیار کئے ہوئے ہیں۔یہی وہ غلو ہیں جو انہیں ہدایت اور سچائی قبول کرنے میں مانع ہیں۔ان تصورات پر کاری ضرب لگانے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ لفظ اختیار فرمایا ہے۔بالکل اسی طرح جس طرح قرآن کریم توحید کے مقابل پر قائم کی جانے والی ہستیوں کے لئے اموات غير احیاء “ کے الفاظ