شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 340 of 670

شیطان کے چیلے — Page 340

338 (۳) اور بریلوی مسلک کے بانی عظیم البرکت امام اہلسنت مجد د ماتہ حاضرہ مؤید ملت طاہرہ اعلی حضرت مولنا مولوی شاہ احمد رضا خاں صاحب قبلہ قادری اپنی کتاب ” العطایا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ ، جلد اول میں تحریر فرماتے ہیں:۔دو ہاں ہاں عیسائیوں کا خدا مخلوق کے مارے سے دم گنوا کر باپ کے پاس گیا اس نے اکلوتے کی یہ عزت کی کہ اس کی مظلومی و بے گناہی کی یہ داد دی کہ اسے دوزخ میں جھونک دیا اوروں کے بدلے اسے تین دن جہنم میں بھونا۔ایسے کو جو روٹی اور گوشت کھاتا ہے اور سفر سے آ کر اپنے پاؤں دھلوا کر درخت کے نیچے آرام کرتا ہے۔درخت اونچا اور وہ نیچا ہے۔ایسے کو جس کا بیٹا اسے جلال بخشتا ہے آریوں کے ایشور کی تو ماں اس کی جان کی حفاظت کرتی تھی۔عیسائیوں کے خدا کا بیٹا اسے عزت بخشا ہے کیوں نہ ہو سپوت ایسے ہی ہوتے ہیں۔پھر اسے بے خطا جہنم میں جھونکنا کیسی محسن کشی ناانصافی ہے۔ایسے کو جو یقیناً دعا باز ہے پچتا تا بھی ہے۔تھک جاتا بھی ہے ایسے کو جس کی دو جور میں ہیں۔دونوں پکی زناکار ، حد بھر کی فاحشہ۔ایسے کو جس کے لئے زنا کی کمائی فاحشہ کی خرچی کہاں مقدس پاک کمائی ہے۔“ ( العطايا النبوي في الفتاوی الرضویہ جلدا کتاب الطہارت باب التیم صفحہ 741،740 ناشر شیخ غلام علی اینڈ سنز تاجران کتب کشمیری بازار لاہور ) (۴) امرتسر سے اہلحدیث مسلک کے نامور عالم مولانا ابوالوفا ثناء اللہ امرتسری صاحب کا اخبار اہلحدیث اپنی 31 مارچ 1939ء بروز جمعہ کی اشاعت میں یہ لکھتا ہے:۔دو (i) ” صاف معلوم ہوتا ہے کہ مسیح خود اپنے اقرار کے مطابق کوئی نیک انسان نہ تھے۔شاید کوئی کہے کہ کسر نفسی سے مسیح نے ایسا کہا تو اس کا جواب یہ ہے کہ عیسائیوں کے اعتقاد کے مطابق مسیح کی انسانیت سب انسانوں کی انسانیت سے برتر ہے اور اس میں گناہ اور خطا کاری کا کوئی شائبہ نہیں تو پھر جب وہاں کسی طرح کا نقص اور گناہ نہیں تو پھر مسیح کا اپنے آپ کو نیک کا مصداق نہ قرار دینا کیسے صحیح ہوسکتا ہے۔کیونکہ کسر نفسی سے وہی قول صحیح ہو سکتا ہے جس کی صحت کسی طرح سے ہو سکے۔مثلا اور لوگ کیسے ہی نیک ہوں مگر چونکہ ان کی انسانیت میں نقص ہے تو بنا بریں وہ اپنے کو ناقص کہہ سکتا ہے مگر حضرت مسیح کی انسانیت ہر برائی سے منزہ ہے اس لئے وہاں کوئی کی نفی کسی طرح صحیح نہیں ہو سکتی۔پس جب کسر نفسی کا عذر باطل ہوا تو نکوئی کی نفی کرنے سے