شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 339 of 670

شیطان کے چیلے — Page 339

337 (۷) یسوع نے کہا۔میرے لئے کہیں سر رکھنے کی جگہ نہیں۔دیکھو یہ شاعرانہ مبالغہ ہے اور صریح دنیا کی تنگی سے شکایت کرنا کہ افتح ترین ہے۔“ (صفحہ 34) (vi) ان ( پادری صاحبان ) کا اصل دین و ایمان آکر یہ ٹھیرا ہے کہ خدا مریم کے رحم میں جنین بن کر خون حیض کا کئی مہینے تک کھاتا رہا اور علقہ سے مضغہ بنا، مضغہ سے گوشت اور اس میں ہڈیاں بنیں اور اس کے مخرج معلوم سے نکلا اور ہگتا موتتا رہا۔یہاں تک کہ جوان ہو کر اپنے بندے سجی کا مرید ہوا۔اور آخر کار ملعون ہو کر تین دن دوزخ میں رہا۔“ (351۔350 (صفحه (vi) انجیل اول کے باب یاز دہم کے درس نوز دہم میں لکھا ہے کہ بڑے کھاؤ اور بڑے شرابی تھے۔“ (صفحه 353) (صفحہ 366) (صفحہ 369) (vii) ” جس طرح اشعیاہ اور عیسی علیہما السلام کی بعضی بلکہ اکثر پیشگوئیاں ہیں جوصرف بطور معمے اور خواب کے ہیں جس پر چاہو منطبق کرلو یا باعتبار ظاہری معنوں کے محض جھوٹ ہیں۔یامانند کلام یوحنا کے محض مجذوبوں کی سی بڑیں۔ویسی پیشگوئیاں البتہ قرآن میں نہیں ہیں۔“ (ix) پس معلوم ہوا کہ حضرت عیسی کا سب بیان معاذ اللہ جھوٹ ہے اور کرامتیں اگر بالفرض ہوئی بھی ہوں تو ایسی ہی ہوں گی۔جیسی مسیح دجال کی ہونے والی۔“ (x) " تیسری انجیل کے آٹھویں باب کے دوسرے اور تیسرے درس سے ظاہر ہے کہ بہتیری رنڈیاں اپنے مال سے حضرت عیسی کی خدمت کرتی تھیں پس اگر کوئی یہودی از راہ خباشت اور بد باطنی کے کہے کہ حضرت عیسی خوشرو نو جوان تھے۔رنڈیاں ان کے ساتھ صرف حرامکاری کے لئے رہتی تھیں اس لئے حضرت عیسی نے بیاہ نہ کیا اور ظاہر یہ کرتے تھے کہ مجھے عورت سے رغبت نہیں کیا جواب ہوگا؟ اور پہلی انجیل کے باب یاز دہم کے درس نوز دہم میں حضرت عیسی نے مخالفوں کا خیال اپنے حق میں قبول کر کے کہا کہ میں تو بڑا کھاؤ اور شرابی ہوں۔پس دونوں باتوں کے ملانے سے اور شراب کی بدمستیوں کے لحاظ سے جو کوئی کچھ بدگمانی نہ کرے سو تھوڑا ہے اور دشمن کی نظر میں کیسی تن آسانی اور بے ریاضتی حضرت عیسیٰ کی بو بھی جاتی ہے۔“ (391۔390)