شیطان کے چیلے — Page 313
312 اس کا پیر اور ان کے ہمنوا ہیں۔جو محمد رسول اللہ ﷺ کے نہیں بلکہ عیسی علیہ السلام کے بنفسہ پرانے جسم سمیت دوبارہ دنیا میں آنے کے قائل ہیں۔اور باقی جہاں تک معنوی بعثت کا تعلق ہے، جو کامل غلامی کی صورت میں یا فنافی الرسول کی صورت میں ہونی ممکن ہے تو نہ صرف یہ کہ احمدی اس کے قائل ہیں بلکہ وہ قرآن کریم کی رو سے اس پر کامل یقین رکھتے ہیں۔اور اگر یہ عقیدہ کہ محمد رسول اللہ ﷺ کا کوئی نائب آپ کی غلامی میں آپ کی بعثت ثانیہ کا مظہر بنے گا ، راشد علی کے نزدیک قابل قبول نہیں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اس کو قرآنِ کریم سے ہی انحراف ہے۔اس لئے اسے احادیث صحیحہ کی بھی پرواہ نہیں۔دیکھئے سورۃ الجمعہ میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی امتین میں ایک بعثت کا ذکر ہے اور دوسری بعثت کا آخرین میں۔اس دوسری بعثت کی پیشگوئی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وَاخَرِينَ مِنهُم لَمَّا يَلْحَقُوا بِهم - (الجمع :4) ترجمہ: اور ان کے سوا ایک دوسری قوم میں بھی ( وہ اسے بھیجے گا ) جو ابھی تک ان سے ملی نہیں۔ان آیات کے نزول پر صحابہ نے آنحضرت ﷺ سے عرض کی ـ مـن هـم يــا رسول الله ؟ یا رسول اللہ ! یہ دوسرے لوگ کون ہیں ( جن میں یہ دوسری بعثت ہوگی ) ؟ تو اس پیشگوئی کی تشریح میں خود حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی یہ گواہی موجود ہے کہ آپ نے حضرت سلمان فارسی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا۔" لو كان الايمان معلقا بالقريا لناله رجل أو رجال من هولاء ( بخاری کتاب التفسیر تفسیر سورۃ الجمعہ ) کہ اگر آخری زمانہ میں ایمان ثریا پر بھی چلا گیا تو سلمان فارسی ( یعنی عجمیوں ) میں سے ایک شخص یا ایک اور روایت کے مطابق بعض اشخاص اسے واپس زمین پر کھینچ لائیں گے۔اب بتائیں کہ یہاں اگر محمد رسول اللہ ﷺ کی معنوی بعثت ثانی کا ذکر نہیں تو پھر اور کیا ذکر ہے؟ کیا محمد رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر عبدالحفیظ اور راشد علی کو فہم قرآن کا دعویٰ ہے؟ کیا یہ قطعی اور سب سے بالا گواہی سننے کے باوجود یہ پیر اور مرید