شیطان کے چیلے — Page 310
309 مقام پر فائز ہے۔لہذا اس پر مومنوں کی نسبت درود بدرجہ اولیٰ ثابت ہوتا ہے۔پس راشد علی کا یہ کہنا کہ یہ اعزاز حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کی جماعت نے چرالیا ہے بالکل جھوٹ اور افتراء ہے۔یہ اعزاز تو رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ اور آپ کے طفیل تمام مومنوں کو عطا ہوا ہے اور وہ ہر نماز میں الـسـلام عـلـيـنـا وعلى عباد الله الصالحین کہ کر خود پر اور خدا تعالیٰ کے صالح بندوں پر درود بھیجتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ ” علیہ السلام“ اور ” علیہ الصلوۃ والسلام کے کلمات کی ادا ئیگی مذکورہ بالا آیت کریمہ اور نماز کی دعا کی حد تک تو ہے ہی لیکن ایک بات ان سے الگ اور امتیازی یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے حکم کی تعمیل میں مسیح موعود کو آپ کا سلام پہنچانا ہر مومن پر فرض ہے۔آنحضرت ﷺ کے حکم کی تعمیل سے راشد علی اور اس کا پیرا نکاری ہیں۔نیز راشد علی اور اس کی پیر کے یہ بدنصیبی ہے کہ نہ انہیں ایسے مومنون کا علم ہے کہ جن پر خدا اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اور نہ کبھی خود خدا اور اس کے فرشتوں کے درود کے مورد بنے ہیں۔پس انہوں نے ہمیشہ کے اندھیروں کی جو زندگی قبول کر لی ہے انہیں کو مبارک ہو۔جہاں تک رسول اللہ ﷺ پر خدا کے درود کا تعلق ہے تو وہ مومنوں پر درود سے بہت ارفع اور اعلیٰ ہے اور حسب مراتب اپنی ایک الگ شکل رکھتا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: دنیا میں کروڑہا ایسے پاک فطرت گذرے ہیں اور آگے بھی ہوں گے لیکن ہم نے سب سے بہتر اور سب سے اعلیٰ اور سب سے خوب تر اس مرد خدا کو پایا ہے جس کا نام ہے محمد صلی اللہ علیہ آلہ وسلم۔اِنَّ اللهَ وَمَلَئِكَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ - يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِيمًاه “ ( الاحزاب : 57) پھر آپ فرماتے ہیں : وو چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 302،301) درود شریف۔۔اس غرض سے پڑھنا چاہئے کہ تا خداوند کریم اپنی برکات اپنے نبی کریم پر نازل کرے۔۔۔اور اس کی بزرگی اور اس کی شان و شوکت اس عالم اور اُس عالم میں ظاہر کرے اور اس کا جلال دنیا اور آخرت میں چمکے (مکتوبات احمد یہ۔جلد اول صفحہ 13۔بحوالہ رسالہ درود شریف) نیز فرمایا: 66