شیطان کے چیلے — Page 305
304 عليا ساتھ جو اس سے پہلے انبیاء علیہم السلام کو ہوئی تھی مجزات اور پیشگوئیاں ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس جگہ اکثر گذشتہ نبیوں کی نسبت بہت زیادہ معجزات اور پیشنگوئیاں موجود ہیں بلکہ بعض گذشتہ انبیاء علیہم السلام کے معجزات اور پیشگوئیوں کو ان معجزات اور پیشگوئیوں سے کچھ نسبت ہی نہیں اور نیز ان کی پیشگوئیاں اور معجزات اس وقت محض بطور قصوں اور کہانیوں کے ہیں مگر یہ منجزات اور پیشگوئیاں ہزار ہا لوگوں کے لئے واقعات چشم دید ہیں اور اس مرتبہ اور شان کے ہیں کہ اس سے بڑھ کر متصور نہیں یعنی دنیا میں ہزار ہا انسان ان کے گواہ ہیں مگر گذشتہ نبیوں کے معجزات اور پیشگوئیوں کا ایک بھی زندہ گواہ پیدا نہیں ہوسکتا باستثناء ہمارے نبی ے کے کہ آپ کے معجزات اور پیشگوئیوں کا میں زندہ گواہ موجود ہوں اور قرآن شریف زندہ گواہ موجود ہے اور میں وہ ہوں جس کے بعض معجزات اور پیشگوئیوں کے کروڑ ہا انسان گواہ ہیں۔پھر اگر درمیان میں تعصب نہ ہو تو کون ایماندار ہے جو واقعات پر اطلاع پانے کے بعد اس بات کی گواہی نہ دے کہ در حقیقت اکثر گذشتہ نبیوں کے معجزات کی نسبت یہ معجزات اور پیشگوئیاں ہر ایک پہلو سے بہت قوی اور بہت زیادہ ہیں۔اور اگر کوئی اندھا انکار کرے تو ہم موجود ہیں اور ہمارے گواہ موجود ہیں ولیـــس الـــخـبـر کـا لمعائنة ـ پھر جس حالت میں صدہا نبیوں کی نسبت ہمارے معجزات اور پیشگوئیاں سبقت لے گئی ہیں تو اب خودسوچ لو کہ اس وحی الہی کو اضغاث احلام اور حدیث النفس کہنا درحقیقت انبیاء علیہم السلام کی نبوت سے انکار کرنا ہے۔اور اگر شک ہو تو خدا تعالیٰ کا خوف کر کے ایک جلسہ کرو اور ہمارے معجزات اور پیشگوئیاں سنو اور ہمارے گواہوں کی شہادت رویت جو حلفی شہادت ہوگی قلمبند کرتے جاؤ اور پھر اگر آپ لوگوں کے لئے ممکن ہو تو باستثناء ہمارے نبی علیہ کے دنیا میں کسی نبی یا ولی کے معجزات کو ان کے مقابل پیش کرو لیکن نہ قصوں کے رنگ میں بلکہ رویت کے گواہ پیش کرو۔کیونکہ قصے تو ہندووں کے پاس بھی کچھ کم نہیں۔قصوں کو پیش کرنا تو ایسا ہے جیسا کہ ایک گوبر کا انبار مشک اور عنبر کے مقابل پر “ ( نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 460 تا462) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس عبارت میں کسی ایک جگہ بھی قرآن پاک کے واقعات سے اپنے معجزات ونشانات کے موازنہ کا ذکر نہیں ملتا۔یہ صرف راشد علی اور اس کے پیر کا جھوٹ ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بہتان ہے۔ایک سرسری تجزیہ سے ہی اس عبارت سے یہ امور واضح ہوتے ہیں کہ