شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 298 of 670

شیطان کے چیلے — Page 298

297 اپنی رؤیا کی تعبیر بھی یہی کی تھی کہ عمرہ امن سے ہو جائے گا۔گو اس سال تو عمرہ نہ ہو سکا مگر یہ اجتہادی سفر بھی بہت لطیف حکمتوں کا حامل ثابت ہوا گو اس سال طواف و زیارت کعبہ تو نہ ہوسکی مگر مشرکوں سے صلح کا معاہدہ ہو گیا۔جس کے نتیجہ میں بالآ خرمشرکین کے خود معاہدہ کی شرائط توڑ دینے پر یہ معاہدہ، فتح مکہ پر منتج ہوا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : لَقَدْ صَدَقَ اللهُ رَسُوْلَهُ الرُّه يَا بِالْحَقِّ (الفتح: 27) کہ خدا تعالیٰ نے رسول کو جور و یا دکھائی تھی اسے سچا کر دکھایا ہے کہ تم ضرور مسجد حرام میں امن سے داخل ہو گے اپنے سرمنڈاتے ہوئے یا بال تراشتے ہوئے اور کسی سے نہ ڈرتے ہوئے فَعَلِمَ مَالَمْ تَعْلَمُوا اللہ تو وہ کچھ جانتا تھا ( یعنی وقت میں تاخیر کی مصلحت ) جو تمہارے علم میں نہ تھا تو خدا تعالیٰ نے قریب ہی کے زمانہ میں فتح دیدی۔پس نبی کی اجتہادی خطا میں بھی بعض اوقات خدا تعالیٰ کی کوئی لطیف حکمت ہوتی ہے۔گواس اجتہادی خطا کے نتیجہ سے مسلمانوں کے دل ٹوٹ گئے تھے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی کو بھی سخت دھکا لگا تھا۔مگر آخر خدا کی حکمت ظاہر ہوئی اور اس کے رسول کی بات بھی پوری ہوئی اور اس صلح کے نتیجہ میں جو مسلمانوں کا دل تو ڑ رہی تھی ، خدا تعالیٰ نے مکہ فتح کرا دیا چونکہ یہ وعدہ کی پیشگوئی تھی اس لئے ٹل نہیں سکتی تھی۔الغرض یہ رویا جو طواف کعبہ کے متعلق تھی۔اس میں آنحضرت ﷺ کو اگلے سال اس کے پورا ہونے کی شرط سے اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ہاں اللہ تعالیٰ کے مد نظر یہی تھا کہ صلح واقعہ ہو جانے کے بعد اگلے سال یہ رویا پوری ہوگی۔اس شرط پر اطلاع نہ دیئے جانے کی وجہ سے ہی لوگوں کو ابتلاء پیش آیا۔اس سے ظاہر ہے بعض اوقات وعدہ عنداللہ مشروط ہوتا ہے مگر ملہم کو خاص مصلحت کے تحت شرط سے آگاہ نہیں کیا جاتا۔صلح حدیبیہ کے متعلق مفسرین کے اقوال 1- امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ تفسیر جلالین تفسیر سورۃ الفتح میں سورۃ الفتح کے شان نزول میں لکھتے ہیں: وو رای رسول الله صلى الله عليه وسلّم في النوم عام الحديبية قبل خروجه انه يدخل مكة هو واصحابه آمنين يحلقون و يقصرون فاخبر بذلك الصحابة ففرحوا فلما