شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 295 of 670

شیطان کے چیلے — Page 295

294 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب 'ازالہ اوہام الف سے لے کر یاء تک پڑھ ڈالیں۔کسی ایک جگہ بھی آپ کو یہ بات نہیں ملے گی کہ نعوذ باللہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کے الہامات غلط ہو گئے تھے۔جس نے بھی ایسی بات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف منسوب کی ہے وہ لعنتی ہے۔کیونکہ سید الانبیاء حضرت محمد صلى الله رسول اللہ ﷺ کے بارہ میں ایسی بات لکھنا انسان کو خدا تعالیٰ کی لعنت کا مورد بنا دیتا ہے۔پس یہ لعنت راشد علی نے خود اپنے لئے پسند کی ہے۔اس ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے آقاومولی آنحضرت ﷺ کے بارہ میں اپنا عقیدہ اور مذہب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: میرا یہ مذہب ہے کہ آنحضرت ﷺ کی خالص کلام لعل کی طرح چمکتی ہے لیکن بایں ہمہ قرآن شریف آپ کی خالص کلام سے بالکل الگ اور ممتاز نظر آتا ہے۔“ ( الحکم 24 اپریل 1903ء) جہاں تک آنحضرت ﷺ کا اپنے الہامات پر اجتہاد کا تعلق ہے تو اس بارہ میں سورہ انفتح کی الله آیت نمبر 28 میں جس رؤیا کا ذکر ہے اس میں آنحضرت ﷺ کے اپنے عمل سے ایک ایسا راہنما اصول قائم ہوا ہے، جسے ہر مسلمان تسلیم کرتا ہے۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کو خدا تعالیٰ نے رویا میں دکھایا کہ مسلمان بے خوف ہوکر بالکل امن سے خانہ کعبہ کا طواف کر رہے ہیں اور سرمنڈوا کر احرام کھول رہے ہیں اس پر آنحضرت صحیح بخاری کی حدیث کے مطابق چودہ سوصحابہ کی جماعت کے ساتھ عمرہ (چھوٹے حج) کے لئے روانہ ہو گئے جب حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو مشرکین مکہ نے آپ کا داخلہ روک دیا۔چونکہ رویا بتاتی تھی کہ مکہ میں داخلہ امن سے ہوگا اور کوئی خوف نہیں ہوگا۔اس لئے صحابہ کو تلوار کے علاوہ دیگر اسلحہ ساتھ لے جانے کی اجازت نہ تھی۔حدیبیہ کے مقام پر آنحضرت ﷺ کو مشرکین مکہ سے ان کی خواہش پر صلح کا ایک معاہدہ کرنا پڑا جس میں شرط تھی کہ مسلمان اگلے سال آئیں تو انہیں عمرہ کی اجازت دی جائے گی۔صلح کی شرائط میں مشرکین نے یہ شرط بھی پیش کی کہ اگر مکہ کا کوئی شخص مسلمان ہو کر مدینہ جائے گا تو اسے واپس کرنا پڑے گا اور اگر مدینہ سے کوئی ملکہ آئے گا تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا یہ شرط مساویانہ نہ تھی۔اس سے ظاہر ہوتا تھا کہ مسلمان اگر اس شرط کو قبول کر لیں تو گویا وہ مشرکین سے دب کر صلح کرنے والے ہوں گے مگر آنحضرت ﷺ نے منشاء الہی سے یہ شرطیں مان لیں۔اور مشرکین سے صلح کا معاہدہ ہو گیا۔اس وقت الله