شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 296 of 670

شیطان کے چیلے — Page 296

295 آنحضرت ﷺ پر خدا تعالیٰ نے منکشف فرمایا کہ یہ شرائط مسلمانوں کے لئے کوئی نقصان دہ نہیں۔چنانچہ بالآخر یہی شرائط خود مشرکین کے لئے وبال بن گئیں۔انہوں نے اس معاہدہ کی خلاف ورزی کی اور اس کے نتیجہ میں مکہ پر آنحضرت ﷺ نے چڑھائی کی اور مکہ فتح ہو گیا۔لیکن شرائط سے بظاہر یہ معلوم ہوتا تھا کہ یہ صلح دب کر کی جارہی ہے اس لئے بعض صحابہ کرام پر یہ معاہدہ بہت شاق گذرا۔چنانچہ حضرت عمرؓ نے اس موقع پر آنحضرت ﷺ سے ایسی گفتگو کی جس کا وہ بعد میں کفارہ دیتے رہے چنانچہ صحیح بخاری کتاب التفسیر تفسیر سورۃ الفتح میں لکھا ہے: صلى الله جاء عمر فقال السنا على الحق وهم على الباطل؟ اليس قتلانا في الجنة وهم في النار؟ قال بـلـى ـ قال ففيما اعطى الدنية في ديننا؟ ونرجع ولم يحكم الله فينا فقال يا ابن الخطاب اني رسول الله ولن يضيعني الله ابدا فرجع متغيظاً - کہ حضرت عمرؓ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ کیا ہم سچائی پر اور وہ لوگ ( مشرکین مکہ ) باطل پر نہیں ؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہاں (یعنی ہم حق پر ہیں اور وہ باطل پر ) حضرت عمرؓ نے یہ بھی کہا کہ ہمارے مقتولین جنتی اور ان کے مقتولین ناری نہیں ؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہاں۔(یعنی ہمارے مقتولین جنتی اور ان کے ناری ہیں ) حضرت عمرؓ نے کہا تو پھر کس وجہ سے ہمارے دین کے معاملہ میں کمزوری دکھائی گئی ہے ( یعنی جنگ نہیں کی جارہی اور ایسی شرائط پر صلح کی جارہی ہے جس میں مشرکین کی طرف سے ہم پر ناجائز دباؤ ڈالا گیا ہے ) اور ہم واپس جارہے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمارے درمیان کوئی فیصلہ نہیں کیا۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا اے ابن خطاب ! میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھے ہر گز ضائع نہیں کرے گا۔پس حضرت عمرؓ ناراضگی کی حالت میں واپس ہوئے۔“ پھر ان کی یہی گفتگو صحیح بخاری کتاب الشروط باب الشرط فی الجہاد والمصالحۃ میں یوں درج ہے: " حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور میں نے کہا الست نبی ست نبی الله حقاً۔کیا آپ سچے نبی نہیں ؟ آپ نے فرمایا: بلی ہاں میں سچا نبی ہوں۔پھر کہا کیا ہم حق پر اور ہمارے دشمن باطل پر نہیں ؟ آپ نے فرمایا: ہاں یعنی ہم حق پر اور ہمارا دشمن باطل پر ہے۔میں نے کہا فـلــم نـعـطـى الدنية في ديننا اذا کہ ہم اپنے دین میں کیوں کمزوری دکھائیں (یعنی کیوں دب کر صلح کریں)۔آنحضرت علی