شیطان کے چیلے — Page 289
288 آپ کی اس عبارت کو ہدف اعتراض نہیں بنایا جاسکتا کیونکہ یہاں دعوی یہ نہیں کہ میں محمد تہوں بلکہ دعوی یہ ہے کہ میں آپ کے نام کا مظہر اتم ہوں یعنی آپ کا نام بالکل الگ ہے اور اس کا مظہر بالکل الگ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بعینہ حضرت محمد مصطفیٰ نہیں ہیں بلکہ ان کے نام کے مظہر ہیں اور آپ کو جو نام محمد اور احمد دیا گیاوہ مظہریت کا آئینہ دار ہے اور ظل اور سایہ کے طور پر ہے اور اس کا صاف مفہوم یہی ہے کہ آپ بجنہ محمد ﷺ نہیں ہیں۔پس مظہریت کا مقام اور مرتبہ قابلِ اعتراض نہیں ہے۔ہاں عبارتیں بدلنے کی جو بدیانتی راشد علی اور اس کا پیر کرتے ہیں وہ قابل مذمت ولعنت ہے۔اسی نوع کے ایک اور اعتراض کے جواب میں کچھ بحث ہم باب اوّل میں بھی کر آئے ہیں یہاں اس مضمون کو مزید کھولنے کے لئے ذیل میں چند اقتباس درج کئے جاتے ہیں۔ملاحظہ فرمائیں۔تذکرۃ الاولیاء میں لکھا ہے کہ کسی نے حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا: ” عرش کیا ہے؟ فرمایا میں ہوں۔پوچھا کرسی کیا ہے؟ فرمایا میں ہوں۔پوچھا لوح وقلم کیا ہے؟ 66 فرمایا میں ہوں۔پوچھا کہتے ہیں ابراہیم ، موسی اور محمد ﷺ اللہ کے برگزیدہ بندے ہیں؟ فرمایا میں ہوں۔“ ( تذکرۃ الاولیاء۔اردو۔باب 14 صفحہ 128۔شائع کردہ شیخ برکت علی اینڈ سنز ) حضرت مولانا شاہ نیاز احمد دہلوی نے تمام نبیوں کا بروز ہونے کا دعویٰ کیا ہے چنانچہ آپ فرماتے ہیں: آدم و شیث و نوح و ہود غیر حقیقتم بود صاحب ہر عصر منم من نه منم نه من منم عیسی مریکی منم احمد ہاشمی منم حیدر شیر نرمنم من نه منم نه من منم یعنی آدم، شیث ، نوح، ہود، عیسی مریمی ، احمد ہاشمی ، حیدر شیر خدا بلکہ ہر صاحب عصر میں ہوں۔دیوان نیاز صفحہ 22 مطبوعہ 1290ھ ) حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں۔