شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 284 of 670

شیطان کے چیلے — Page 284

283 حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم رڈی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔اگر حدیثوں کا دنیا میں وجود بھی نہ ہوتا تب بھی میرے اس دعوے کو کچھ حرج نہ پہنچتا تھا ہاں خدا نے میری وحی میں جابجا قرآن کریم کو پیش کیا ہے۔چنانچہ براہین احمدیہ کو اٹھا کر دیکھو گے کہ اس دعوے کے متعلق کوئی حدیث نہیں بیان کی گئی۔جابجا میری وحی میں خدا تعالیٰ نے قرآن کو پیش کیا ہے۔“ (روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 140) اس جگہ بھی راشد علی نے تلبیسانہ کارروائی کی ہے اور اس عبارت سے پہلے کی چند سطور تحریر نہیں کیں۔جن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مولوی ثناء اللہ امرتسری کی طرف سے پیش کردہ ایک اعتراض کا جواب دیتے ہوئے مذکورہ بالا وضاحت کی ہے۔اسی وجہ سے جو عبارت را شد علی نے پیش کی ہے، اس کے پہلے دو الفاظ کے درمیان سے حرف ” اس کو حذف کر دیا ہے۔اصل عبارت اس طرح ہے۔” میرے اس دعوی کی۔۔چونکہ لفظ اس اس مخصوص مسئلہ کی وضاحت کی طرف اشارہ کرتا تھا اس لئے راشد علی نے اس کی تحریف کر دی۔ہیں۔وو اب ملاحظہ فرمائیں مذکورہ بالا عبارت سے پہلے کی چند سطور۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے پھر مولوی ثناء اللہ صاحب کہتے ہیں کہ آپ کو مسیح موعود کی پیشگوئی کا خیال کیوں دل میں آیا۔آخر وہ حدیثوں سے ہی لیا گیا پھر حدیثوں کی اور علامات کیوں قبول نہیں کی جاتیں۔یہ سادہ لوح یا تو افتراء سے ایسا کہتے ہیں اور یا محض حماقت سے ، اور ہم اس کے جواب میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کرتے ہیں کہ نزول المسح ضمیمہ۔روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 140) میرے اس دعوی اس عبارت میں صاف واضح ہے کہ یہاں صرف مسئلہ مسیح موعود کی بابت حدیثوں کا تھا۔اس مسئلہ کی وضاحت کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ میرے اس دعویٰ کی بنیا د حدیث نہیں۔ہاں جو احادیث اس دعوئی کی تائید میں قرآن کریم کے مطابق ہوں یا الہام الہی کے مطابق ہوں ان کو آپ نے جگہ جگہ بار بار اپنی تائید میں پیش کیا۔اور اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ آنحضرت ﷺ کی احادیث مبارکہ نہ قرآن کریم کے منافی ہو سکتی ہیں اور نہ ہی بعد میں کسی ملہم من اللہ بزرگ کی وحی کے معارض۔ہاں وہ وضعی باتیں جو بعد میں آنحضرت ﷺ کی طرف منسوب کی گئیں اور انہیں احادیث قرار دیا گیا وہ واقعہ رڈی کی طرح پھینکی جانے والی ہیں کیونکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے فرمودات ہی نہیں ہیں۔آخر ایسی وضعی احادیث کو تحفظ