شیطان کے چیلے — Page 276
275 اس عبارت سے بھی پتہ چلتا ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء اور آنحضرت ﷺ کے خلفاء اور امت میں پیدا ہو نیوالے جملہ اولیاء اور مجددین سب کے سب آنحضرت ﷺ کے بروز تھے۔اسی طرح امام مہدی بھی بروز محمد ع ہوگا۔(7) دیوبندی فرقہ کے بانی حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمتہ اللہ علیہ کے نواسے قاری محمد طیب صاحب مہتمم دارالعلوم دیو بند آنے والے مسیح کی شان بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: دو لیکن پھر سوال یہ ہے کہ جب خاتم الد جالین کا اصلی مقابلہ تو خاتم النبیین سے ہے مگر اس مقابلہ کے لئے نہ حضور گا دنیا میں تشریف لا نا مناسب نہ صدیوں باقی رکھا جانا شایانِ شان ، نہ زمانہ نبوی میں مقابلہ ختم قرار دیا جانا مصلحت اور ادھر ختم دجالیت کے استیصال کے لئے چھوٹی موٹی روحانیت تو کیا بڑی سے بڑی ولایت بھی کافی نہ تھی۔عام مجد دین اور ارباب ولایت اپنی پوری روحانی طاقتوں سے بھی اس سے عہدہ برآنہ ہو سکتے تھے جب تک کہ نبوت کی روحانیت مقابل نہ آئے۔بلکہ محض نبوت کی قوت بھی اس وقت تک موثر نہ تھی جب تک کہ اس کے ساتھ ختم نبوت کا پاور شامل نہ ہو تو پھر شکست دجالیت کی صورت بجز اس کے اور کیا ہوسکتی تھی کہ اس دقبال اعظم کو نیست و نابود کرنے کے لئے امت میں ایک ایسا خاتم الحجز دین آئے جو خاتم النبیین کی غیر معمولی قوت کو اپنے اندر جذب کئے ہوئے ہو اور ساتھ ہی خاتم النبیین سے ایسی مناسبت تامہ رکھتا ہو کہ اس کا مقابلہ بعینہ خاتم النبیین کا مقابلہ ہو۔مگر یہ بھی ظاہر ہے کہ ختم نبوت کی روحانیت کا انجذاب اسی مجد د کا قلب کر سکتا تھا جو خود بھی نبوت آشنا ہو۔محض مرتبہ ولایت میں یہ حمل کہاں کہ وہ درجہ نبوت بھی برداشت کر سکے۔چہ جائیکہ ختم نبوت کا کوئی انعکاس اپنے اندر اتار سکے نہیں بلکہ اس انعکاس کے لئے ایک ایسے نبوت آشنا قلب کی ضرورت تھی جو فی الجملہ خاتمیت کی شان بھی اپنے اندر رکھتا ہو۔تا کہ خاتم مطلق کے کمالات کا عکس اس میں اتر سکے اور ساتھ ہی اس خاتم مطلق کی ختم نبوت میں فرق بھی نہ آئے۔اس کی صورت بجز اس کے اور کیا ہوسکتی تھی کہ انبیائے سابقین میں سے کسی نبی کو جو ایک حد تک خاتمیت کی شان رکھتا ہو اس امت میں مجد د کی حیثیت سے لایا جائے۔جو طاقت تو نبوت کی لئے ہو مگر اپنی نبوت کا منصب تبلیغ اور مرتبہ تشریح لئے نہ ہو بلکہ ایک امتی کی حیثیت سے اس امت میں کام کرے اور خاتم النبیین کے کمالات کو اپنے واسطے سے استعمال میں لائے۔“