شیطان کے چیلے — Page 272
271 بروز کے مسئلہ پر صوفیاء کے اتفاق کو بیان کرتے ہوئے قطب العالم شیخ المشائخ شیخ محمد اکرم صابری الحضی القد وی * لکھتے ہیں۔روحانیت کمل گا ہے برار باب ریاضت چناں تصرف می فرماید که فاعل افعال شاں مے گردد و 66 ایس مرتبہ را صوفیاء بروز می گویند “ (اقتباس الانوار۔صفحہ 52 مطبع اسلامیہ لاہور ) کہ کامل لوگوں کی روحانیت ارباب ریاضت پر ایسا تصرف کرتی ہے کہ وہ روحانیت کے ان افعال کی فاعل ہو جاتی ہیں۔اس مرتبہ کو صوفیاء بروز کہتے ہیں۔پس صوفیاء کے نزدیک بعض ارواح کی مناسبت سے جسم کو اسی کا نام دیا جاتا ہے۔جس ہے جس سے وہ روح مناسبت رکھتی ہے۔دیو بندیوں کے بزرگ جناب قاری محمد طیب صاحب مہتم دارالعلوم دیو بند ، اسی مناسبت سے مسیح موعود کے بارہ میں بیان فرماتے ہیں۔" بہر حال اگر خاتمیت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو حضور سے کامل مناسبت دی گئی تھی تو اخلاق خاتمیت اور مقام خاتمیت میں بھی مخصوص مشابہت و مناسبت دی گئی۔جس سے صاف واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت عیسوی کو بارگاہ محمدی سے خلقاً و خُلقاً رتباً ومقاماً ایسی ہی مناسبت ہے جیسی کہ ایک چیز کے دوشریکوں میں یا باپ بیٹوں میں ہونی چاہئے۔“ تعلیمات اسلام اور مسیحی اقوام - صفحه 129 - از قاری محمد طیب ماتم دار العلوم دیوبند۔1986 نفیس اکیڈمی کراچی ) اس مسئلہ کو پوری طرح کھولنے کے بعد اب ہم مزید ثبوت کے لئے بزرگانِ امت کے بعض ایسے اقوال ذیل میں درج کرتے ہیں جن میں امت محمدیہ میں آنے والے مہدی معہود اور مسیح موعود کو آنحضرت ﷺ کی دوسری بعثت کا مظہر اور آپ کا ظلت اور بروز قرار دیا گیا ہے۔معزز قارئین ! ان تحریرات سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ راشد علی اور اس کا پیر بزرگانِ امت کے ان عقائد اور تعلیمات سے بالکل آشنا نہیں۔پھر ان کو مذہبی امور میں ایسے دعوے کرنے کا کوئی حق نہیں یا پھر ان سب باتوں کا علم رکھنے کے باوجود محض جھوٹ سے کام لیتے ہیں اور عوام الناس کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ایسی تحریریں امت مسلمہ کے لٹریچر میں کثرت سے موجود ہیں جن میں آنحضرت ﷺ کی حضرت شیخ محمد اکرم صابری ابن محمد علی بر اسہ کے رہنے والے تھے اور ان کا تعلق حنفی مذہب سے تھا اور مسلک کے لحاظ سے قدوسی کہلاتے