شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 265 of 670

شیطان کے چیلے — Page 265

264 پاکستان میں حضرت مرزا صاحب سے پہلے اس کا خوب چرچا تھا کہ چاند اور سورج کو گرہن لگے گا۔لیکن اب آپ کے بعد یہ اسے امام باقر " کا قول قرار دینے لگے ہیں تا کہ آپ سے کسی نہ کسی طریق سے چھٹکارامل جائے جن کے زمانہ میں 1894ء میں معینہ تاریخوں میں چاند اور سورج کو گرہن لگا۔یہ تو ایک الگ بحث ہے، لیکن اس وقت بحث یہ ہے کہ چاند اور سورج ہر دو کا گرہن ہونا حضرت مرزا صاحب کی ایجاد نہیں کہ ان پر الزام دیا جائے کہ اپنی فضیلت کی خاطر ایک کی بجائے دوگر ہن بنالئے ہیں۔اسے اگر حدیث نبوی نہ بھی مانیں تو یہ امام باقر " جو تقریباً چودہ سوسال قبل گزرے ہیں، کی پیشگوئی تو ثابت ہے جو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے پوتے اور امام زین العابدین رحمتہ اللہ علیہ کے بیٹے تھے۔کروڑ ہا شیعہ انہیں امام مانتے ہیں ان کی طرز روایت یہ نہیں تھی کہ سلسلہ وار واقعات سناتے تھے کہ انہوں نے فلاں سے سنا اور فلاں نے فلاں سے سنا بلکہ اہل بیت نبوی ﷺ میں ان کی پرورش ہوئی اور جو باتیں وہ وہاں سنتے تھے وہی بیان فرما دیتے تھے اس لئے ان کی بیان فرمودہ روایت کو دوسرے پیمانے سے نہیں پرکھا جائے گا۔بلکہ ان بزرگ آئمہ کے مقام اور ان کی نیکی اور تقویٰ کے اعلیٰ مقام اور مرتبہ کولو ظ ر کھتے ہوئے ، جو یہ آنحضرت کی طرف منسوب کریں اسے بدرجہ اولیٰ ملحوظ رکھنا ہوگا۔اب راشد علی اور عبدالحفیظ مانیں یانہ ما نہیں کروڑ ہا شیعہ امام باقر کی اس روایت کو ہی ماننے پر مجبور ہیں اور سنی علماء میں سے بھی ایک بڑی تعداد اس روایت کا نہ صرف احترام کرتی آئی ہے بلکہ اس کے پورا ہونے کی منتظر بھی رہی ہے۔اور ان پیر ومرید جیسے کج بحث بھی اس حقیقت سے بہر حال انکار نہیں کر سکتے کہ یہ حضرت مرزا صاحب کی بنائی ہوئی پیشگوئی نہیں۔اگر بنائی ہے تو پھر ضرور امام باقر نے بنائی ہے۔پس سوال یہ ہے کہ کیا امام باقر نے امام مہدی علیہ السلام کی رسول اللہ ﷺ پرفضیلت ثابت کرنے کے لئے ایسا کیا تھا؟ ضمناًیہ بتانا بھی ضروری ہے کہ یہ روایت حدیث کی کتاب دار قطنی میں موجود ہے۔جسے نہ صرف یہ کہ سنی علماء ایک پائے کی کتاب تسلیم کرتے ہیں بلکہ اس مذکورہ بالا حدیث پر کبھی کسی نے کلام نہیں کیا۔علاوہ ازیں سید عبدالحفیظ نے اس شعر سے آگے جو شعر اس زیر بحث شعر کی وضاحت کرتا تھا ، جاننے کے باوجود اس کو نظر انداز کیا ہے تا کہ وہ قارئین کو گمراہ کر سکے۔اس اگلے شعر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے۔