شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 264 of 670

شیطان کے چیلے — Page 264

263 آپ کو حضور ﷺ سے افضل قرار دینے کی جدو جہد میں پہلے تو ان آیتوں کو اپنے اوپر چسپاں کیا جو اوپر دی گئیں ہیں۔پھر بھی تسلی نہ ہوئی تو کہا۔له خسف القمر المنير وان لى غسا القمران المشرقان اتنكر اس کے لئے صرف چاند گرہن کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا۔اب کیا تو انکار کرے گا۔(روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 183 ) اپنی دوسری کتاب خطبہ الہامیہ میں حضور ﷺ کے زمانے کے اسلام کو ہلال اور اپنے اسلام کو بدر سے تعبیر کیا۔روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 184) (الفتوى) راشد علی اور اس کا پیر اتنے کور باطن انسان ہیں کہ انہیں پتہ نہیں چلتا کہ اعتراض کس پر کر رہے ہیں۔حقیقت میں یہ آنحضرت ﷺ کی حدیث پر اعتراض کر رہے ہیں۔تمام علماء جانتے ہیں کہ چاند ، سورج گرہن کی پیشگوئی حضرت مرزا صاحب نے نہیں کی بلکہ محمد رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائی تھی۔اور یہ بھی جانتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے وقت میں چاند کا گرہن ہوا تھا۔یہی بات حضرت مرزا صاحب نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی صداقت کے اظہار کے لئے بیان کی ہے۔اور چاند اور سورج کے گرہن کو نہ تو کبھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اور نہ ہی کبھی آپ کے کسی خلیفہ نے ، نہ ہی کسی احمدی عالم دین نے اور نہ ہی کسی عام احمدی نے آج تک آنحضرت ﷺ پر حضرت مرزا صاحب کی فضیلت کے طور پر پیش کیا۔آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی پر ، جو ایک روشن حقیقت کی طرح چلی آ رہی ہے، گزشتہ چودہ سو سال میں دین کے مفکرین میں سے بھی کسی نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے لئے تو ایک چاند ہی کو گرہن لگا تھا تو مہدی کے لئے دونوں کو کیوں گرہن لگے گا اور کسی نے اس وجہ سے مہدی کی حضرت محمد پر فضیلت کا نہیں سوچا۔لیکن پیر عبدالحفیظ اور اس کے مرید کے ذہن میں یہ فتنہ کو ندا ہے کہ مرزا صاحب نے اپنی تائید میں یہ نشان پیش کر کے محمد رسول اللہ ﷺ پر اپنی فضیلت کا اعلان کیا ہے یہ پیر ومرید کی نیت کی کبھی نہیں تو اور کیا ہے حملہ تو بظاہر حضرت مرزا صاحب پر کرتے ہیں لیکن عملاً ان کا یہ حملہ ان باتوں پر ہے جو حضرت مرزا صاحب کی تخلیق نہیں بلکہ وہ مسلمہ مسائل دینیہ ہیں جن کی سند محد مصطفی ﷺ سے ہے۔اگر چہ کثرت کے ساتھ علماء نے چاند سورج گرہن کی پیشگوئی والی حدیث کو قبول کیا ہے اور ہندو الله