شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 254 of 670

شیطان کے چیلے — Page 254

253 وو حمد رسول الله والذين معه اشداء على الكفار رحماء بینھم۔اس وحی الہی میں 66 میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔“۔ایک غلطی کا ازالہ۔روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 207) را شد علی کا شیطان نامعلوم اسے کون کون سی ہیرا پھیریاں سکھاتا ہے جن کی بناء پر وہ ہر تحریف ، ہر جھوٹ اور ہر تلبیس کو شیر مادر سمجھتا ہے۔اس مذکورہ بالا عبارت کو اس نے تبدیل کرنے کے بعد قابل اعتراض بنانے کی جسارت کی ہے۔ورنہ ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اصل عبارت پر کوئی اعتراض نہیں اٹھ سکتا۔کیونکہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے نام ”محمد“ دیا ہے۔ظاہر ہے کہ کسی کو محمد نام دینے سے کوئی اعتراض نہیں اٹھ سکتا۔اس دنیا میں کروڑوں مسلمان ایسے ہیں جن کو ان کے والدین نے محمد نام دیا ہے اور عرب تو عام طور پر ہر اس شخص کو ”محمد“ کہہ کر بلاتے ہیں جس کا وہ نام نہ جانتے ہوں۔جس جگہ راشد علی رہتا ہے وہاں بھی اس کے اردگر دروزانہ اس کا مظاہرہ ہوتا ہے، ان پر تو راشد علی کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا مگر اعتراض ہے تو خدا تعالیٰ پر کہ اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو محمد نام کیوں دیا۔باقی جہاں تک ”رسول“ بنانے کا تعلق ہے تو اس پر راشد علی جس قدر بھی سیخ پا ہو، خدا تعالیٰ کو اس کی کیا پرواہ ہے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اللهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ (الانعام:125) اللہ تعالیٰ سب سے بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت کہاں رکھے۔چنانچہ امت مسلمہ کا مسلمہ عقیدہ ہے کہ آنے والا مسیح رسول ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس زیر بحث عبارت میں آنحضرت ﷺ سے نہ برابری کے دعوئی کا استنباط ہوسکتا ہے اور نہ بعینہ محمد رسول اللہ علی ہونے کا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام مذکورہ بالا زیر بحث آیت کریمہ کے بارہ میں فرماتے ہیں: 66 ہمارے نبی ﷺ کے دو نام ہیں (1) ایک محمد ﷺ اور یہ نام توریت میں لکھا گیا ہے جو ایک آتشی شریعت ہے۔جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے۔مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللَّهِ وَالَّذِيْنَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى صلى الله الكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُم۔۔۔۔ذِلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ (2) دوسرا نام احمد ہے ﷺ اور یہ نام انجیل میں ہے جو ایک جمالی رنگ میں تعلیم الہی ہے جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے۔وَمُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ يَّاتِي