شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 253 of 670

شیطان کے چیلے — Page 253

252 جب انسان بغض و عناد میں اندھا ہو جائے تو وہ ایسی ہی حرکتیں کرتا ہے جن کا ذکر اس مثال میں بیان ہوا ہے کہ گیدڑ کی موت آئے تو وہ شہر کی طرف بھاگتا ہے۔‘ ایک جھوٹا اور کذاب جب دین کے معاملات میں دخل دے گا اور معرفت و سلوک کی پاک راہوں کو گندہ کرنے کی کوشش کرے گا تو وہ خدا تعالیٰ کے ساتھ اس کے فرشتوں اور عوام الناس کی لعنت کا موردتو ضرور بنے گا۔مذکورہ بالا اعتراض میں اوّل تو یہ پیر اور مرید بالکل جھوٹے ہیں۔دوسرے یہ کہ اپنے جھوٹ کو سچ باور کرانے کے لئے انہوں نے یہودیانہ تحریف کی لعنت اختیار کی ہے۔مذکورہ بالا آیات میں سے آخری دو آیات انہوں نے واضح طور پر تحریف کر کے تحریر کی ہیں۔وہ لکھتے ہیں: ” يس والقرآن الحكیم“ (روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 110) وو جبکہ اصل کتاب میں لکھا ہے۔” يس ـ انك لمن المرسلين - کیونکہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام ہے۔سورہ یس کا شروع نہیں ہے۔الاقصى - پھر انہوں نے لکھا ہے۔سبحان الذي اسرى بعبده من المسجد الحرام الى المسجد (روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 81) جبکہ اصل کتاب میں لکھا ہے۔سبحان الذی اسرى بعبده ليلاً خلق آدم فاكرمه گویا ایک تو آیت تحریف کی اور اس میں سے ” لیلا “ کا لفظ نکال دیا اور دوسرے الہام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو محر "ف کر کے تحریر کیا۔ایسے شاطروں سے سچائی اور دیانتداری کی امید کون رکھ سکتا ہے؟ اسی طرح راشد علی نے یہودیانہ خصلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک عبارت میں تحریف کر کے اسے مور د طعن قرار دیا ہے۔اس نے حسب ذیل عبارت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف منسوب کی۔" ( محمد رسول الله والذين معه اشداء على الكفار رحماء بينهم ) کے الہام میں محمد رسول اللہ سے مراد میں ہوں اور محمد رسول اللہ خدا نے مجھے کہا ہے۔“ یہ عبارت راشد علی کی خودساختہ ہے جبکہ اصل عبارت یہ ہے۔(روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 207)