شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 241 of 670

شیطان کے چیلے — Page 241

240 اگر حضور ملکہ معظمہ میرے تصدیق دعوای کیلئے مجھ سے نشان دیکھنا چاہیں تو میں یقین رکھتا ہوں کہ ابھی ایک سال پورا نہ ہو کہ وہ ظاہر ہو جائے۔اور نہ صرف یہی بلکہ دعا کر سکتا ہوں کہ یہ تمام زمانہ عافیت و صحت سے بسر ہو۔لیکن اگر کوئی نشان ظاہر نہ ہو۔اور میں جھوٹا نکلوں تو میں اس سزا میں راضی ہوں کہ حضور ملکہ معظمہ کے پایہ تخت کے آگے پھانسی دیا جاؤں۔یہ سب الحاح اس لئے ہے کہ کاش ہماری محسنہ ملکہ معظمہ کو اس آسمان کے خدا کی طرف خیال آ جائے جس سے اس زمانہ میں عیسائی مذہب بے خبر ہے۔منہ حضور ملکہ معظمہ اپنی روشن عقل کے ساتھ سوچیں کہ کسی کا خدا سے برگشتہ اور خدا کا دشمن نام رکھنا جو لعنت کا مفہوم ہے۔کیا اس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی اور بھی تو ہین ہوگی؟ پس جس کو خدا کے تمام فرشتے مقر ب مقر تب کہہ رہے ہیں اور جو خدا کے نور سے نکلا ہے اگر اس کا نام خدا سے برگشتہ اور خدا کا دشمن رکھا جائے تو اس کی کس قدر اہانت ہے؟ افسوس اس توہین کو یسوع کی نسبت اس زمانہ میں چالیس کروڑ انسان نے اختیار کر رکھا ہے۔اے ملکہ معظمہ !ایسوع مسیح سے تو یہ نیکی کر۔خدا تجھ سے بہت نیکی کرے گا۔میں دعا مانگتا ہوں کہ اس کا رروائی کے لئے خدا تعالیٰ آپ ہماری محسنہ ملکہ معظمہ کے دل میں القا کرے۔پیلا طوس نے جس کے زمانہ میں یسوع تھا۔نا انصافی سے یہودیوں کے رعب کے نیچے آ کر ایک مجرم قیدی کو چھوڑ دیا۔اور یسوع جو بے گناہ تھا اس کو نہ چھوڑا لیکن اے ملکہ معظمہ قیصرہ ہند ہم عاجزانہ ادب کے ساتھ تیرے حضور میں کھڑے ہو کر عرض کرتے ہیں کہ تو اس خوشی کے وقت میں جو شصت سالہ جو بلی کا وقت ہے یسوع کے چھوڑنے کے لئے کوشش کر۔اس وقت ہم اپنی بہایت پاک نیت سے جو خدا کے خوف اور سچائی سے بھری ہوئی ہے تیری جناب میں اس التماس کے لئے جرات کرتے ہیں کہ یسوع مسیح کی عزت کو اس داغ سے جو اس پر لگایا جاتا ہے اپنی مردانہ ہمت سے پاک کر کے دکھلا۔“ تحفہ قیصریہ۔روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 275 ،276) پس رسالہ تحفہ قیصریہ ملکہ وکٹوریہ کے نام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے ایک خط تھا جو اسلام اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی سچائی ، عیسائیت کے مروجہ عقائد کے بطلان اور اسلام کے زندہ اور روحانی تاثیرات سے پُر اور زندہ نشانون کے اعجاز سے مزین تھا۔یہ رسالہ ملکہ معظمہ کو اسلام قبول کرنے اور شہنشاہ دو عالم حضرت محمد مصطفی ﷺ کی غلامی میں آنے کی ایسی کھلی کھلی دعوت تھی جس کی توفیق صرف مامورزمانہ حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کوملی۔آپ نے جس شانِ حق کے ساتھ یہ دعوت دی اس کی نظیر ہمیں صرف اور صرف اسوہ نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ میں ملتی ہے۔جس طرح آپ