شیطان کے چیلے — Page 235
234 پر بیت اور محبت رچ گئی ہے بار بار کتا بلا بننے سے بچاوے۔مگر افسوس کہ پنڈت صاحب نے اس نہایت ذلیل اعتقاد سے دست کشی اختیار نہ کی اور اپنے تمام بزرگوں اور اوتاروں وغیرہ کی اہانت اور ذلت جائز رکھی مگر اس ناپاک اعتقاد کو نہ چھوڑا۔اور مرتے دم تک یہی ان کا ظن رہا کہ گو کیسا ہی اوتار ہو رام چندر ہو یا کرشن ہو۔یا خود وہی ہو جس پر ویدا ترا ہے پر میشور کو ہرگز منظور ہی نہیں کہ اس پر دائمی فضل کرے۔بلکہ وہ اوتار بنا کر پھر بھی انہیں کو کیڑے مکوڑے ہی بناتا رہے گا۔وہ کچھ ایسا سخت دل ہے کہ عشق اور محبت کا اس کو ذرا پاس نہیں۔اور ایسا ضعیف ہے کہ اس میں خود بخود بنانے کی ذرہ طاقت نہیں۔یہ پنڈت صاحب کا خوش عقیدہ تھا جس کو پُر زور دلائل سے رڈ کر کے پنڈت صاحب پر یہ ثابت کیا گیا تھا کہ خدائے تعالیٰ ہرگز ادھورا اور ناقص نہیں بلکہ مبدء ہے تمام فیضوں کا اور جامع ہے تمام خوبیوں کا اور مجمع ہے جمیع صفات کاملہ کا اور واحد لا شریک ہے اپنی ذات میں اور صفات میں اور مسعودیت میں اور پھر اس کے بعد دو دفعہ بذریعہ خط رجسٹری شده حقیقت دین اسلام سے بدلائل واضحہ ان کو متنبہ کیا گیا اور دوسرے خط میں یہ بھی لکھا گیا کہ اسلام وہ دین ہے جو اپنی حقیقت پر دوہرا ثبوت ہر وقت موجود رکھتا ہے۔ایک معقولی دلائل جن سے اصولِ حقہ اسلام کی دیوار روئیں کی طرح مضبوط اور مستحکم ثابت ہوتی ہیں۔دوسری آسمانی آیات وربانی تائیدات اور غیبی مکاشفات اور رحمانی الہامات و مخاطبات اور دیگر خوارق عادات جو اسلام کے کامل متبعین سے ظہور میں آتے ہیں جن سے حقیقی نجات ایسے جہان میں بچے ایماندار کوملتی ہے۔یہ دونوں قسم کے ثبوت اسلام کے غیر میں ہر گز نہیں پائے جاتے اور نہ ان کو طاقت ہے کہ اس کے مقابلہ پر کچھ دم مار سکیں۔لیکن اسلام میں وجوداس کا متحقق ہے۔سواگر ان دونوں قسم کے ثبوت میں سے کسی قسم کے ثبوت میں شک ہو تو اسی جگہ قادیان میں آکر اپنی تسلی کر لینی چاہئے اور یہ بھی پنڈت صاحب کو لکھا گیا کہ معمولی خرچ آپ کی آمد ورفت کا اور نیز واجبی خرچ خوراک ہمارے ذمہ رہے گا اور وہ خط ان کے بعض آریوں کو بھی دکھلایا گیا اور دونوں رجسٹریوں کی ان کی دستخطی رسید بھی آگئی پر انہوں نے جب دنیا اور ناموسِ دنیوی کے باعث اس طرف ذرا بھی توجہ نہ کی یہاں تک کہ جس دنیا سے انہوں نے پیار کیا اور ربط بڑھایا تھا آخر بصد حسرت اس کو چھوڑ کر اور تمام درہم و دینار سے مجبوری جدا ہو کر اس دار الفنا سے کوچ کر گئے اور بہت سی غفلت اور ظلمت اور ضلالت اور کفر کے پہاڑ اپنے سر پر لے گئے اور ان کے سفر آخرت کی خبر بھی کہ جوان