شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 221 of 670

شیطان کے چیلے — Page 221

220 آتھم نے نہ قسم کھائی اور نہ نائش کی اور اس طریق سے بتادیا کہ ضرور اس نے رجوع بحق کیا تھا اور چونکہ اس نے علانیہ طور پر زبان سے اس رجوع کا اظہار نہیں کیا اس لئے خدا نے مجرم کو بے سزا نہیں چھوڑا۔اور اخفائے حق کی سزا میں آخری اشتہار سے جو 30 دسمبر کو شائع ہوا، سات ماہ کے اندر الہی گرفت میں آ گیا اور 26 جولائی 1896ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ اسلام کی سچائی اور عیسائیت کی شکست کو ظا ہر کر گیا۔یہ پیشگوئی چونکہ رجوع الی الحق کی شرط کے ساتھ مشروط تھی اس لئے اس نے جس حد تک اس شرط سے فائدہ اٹھایا، اس حد تک اسے بصورت موت ہاویہ میں گرنے سے مہلت مل گئی گو جب تک وہ زندہ رہا عملاً ایک دوزخ میں ہی رہا اور ہر پل ہاویہ میں سلگتا رہا۔لیکن حق کو چھپانے کی وجہ سے بالآخر وہ خدا تعالیٰ کی گرفت سے بچ نہ سکا اور پیشگوئی کی صداقت پر مہر تصدیق ثبت کرتا ہوا بسزائے موت فی الحقیقت ہادیہ میں گرایا گیا۔آخر میں ہم راشد علی کی توجہ اس بحث کی طرف مبذول کرا دیتے ہیں جو گستاخان رسول پر لعنت اور راشد علی کی غیرت کے باب میں جواب نمبر ۴ میں ” مولوی جھوٹے ہیں“ کے عنوان کے تحت مذکور ہے۔اس جگہ اس کے پیش رو مولویوں نے بھی آتھم کی پیشگوئی کی بابت قسم نہ کھا کر اس کی صداقت پر مبر تصدیق ثبت کی تھی اور آج راشد علی ان کے ساتھ شامل ہو کر اپنے جھوٹے ہونے کا کھلا کھلا ثبوت پیش کر رہا ہے۔(3) دو عورتوں ( بیوہ اور باکرہ ) سے شادی کا الہام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جس الہام کا راشد علی کے پیر عبدالحفیظ نے ذکر کیا ہے اور اس کے وو الفاظ کی ترتیب کو بدل کر دھوکا دینا چاہا ہے، وہ ہے ” بكر وثيب، جس کا ترجمہ ہے ” کنواری اور بیوہ اس الہام کی توجیہ شروع میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بھی کبھی کہ یہ الہام ایک کنواری سے اور ایک بیوہ