شیطان کے چیلے — Page 220
219 کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کے دونوں عذرات اپنے ایک اور اشتہار میں جس میں چار ہزار انعام دینے کا وعدہ تھا، توڑ دیئے۔پادری عبداللہ آتھم اس کا کوئی جواب نہ دے سکا۔اس اشتہار میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس سلسلہ میں اپنا آخری الہام درج فرمایا کہ ” خدا تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے کہ میں بس نہیں کروں گا جب تک قومی ہاتھ نہ دکھلا دوں اور شکست خوردہ گروہ کی سب پر ذلت ظاہر نہ کر دوں۔“ آپ نے اس الہام کی تشریح کرتے ہوئے یہ حتمی نوٹ لکھا کہ ” اب اگر آتھم صاحب قسم کھا لیویں تو وعدہ ایک سال قطعی اور یقینی ہے جس کے ساتھ کوئی بھی شرما نہیں اور تقدیر مبرم ہے۔اور اگر تم نہ کھاویں تو پھر بھی خدا تعالی ایسے مجرم کو بے سزا نہیں چھوڑے گا۔جس نے حق کا اخفاء کر کے دنیا کو دھوکا دینا چاہا۔۔۔۔6 (اشتہار انعامی چار ہزار روپیہ۔مندرجہ انوار الاسلام ) اس چار ہزار روپیہ کے انعامی اشتہار کے بعد عبد اللہ انتقم مقسم کھانے پر آمادہ نہ ہوا بلکہ اس کا مقسم سے انکار کمال کو پہنچ گیا۔اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یکے بعد دیگرے تین اشتہار اور بھی دیئے جن میں سے آخری اشتہار 30 دسمبر 1895ء کو دیا گیا۔اس میں آپ نے آخری اور فیصلہ کن الفاظ تحریر فرمائے کہ اگر پادری صاحبان ملامت کرتے کرتے ان ( آتھم ) کو ذبح بھی کر ڈالیں ، جب بھی وہ میرے مقابل پر قسم کھانے کے لئے ہر گز نہیں آئیں گے کیونکہ وہ دل میں جانتے ہیں کہ پیشگوئی پوری ہو گئی۔میری سچائی کے لئے یہ نمایاں دلیل کافی ہے کہ آتھم صاحب میرے مقابل پر میرے مواجہہ میں ہر گز ختم نہیں اٹھا ئیں گے اگر چہ عیسائی لوگ ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں۔اگر وہ قسم کھا لیں تو یہ پیشگوئی بلا شبہ دوسرے پہلو پر پوری ہو جائے گی۔خدا کی باتیں ٹل نہیں سکتیں۔“ (اشتہار - 30 دسمبر 1895 ء۔مجموعہ اشتہارات جلد 2 صفحہ 204) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آتھم کو تم کھانے کے علاوہ نالش کرنے کی بھی ترغیب دی تھی لیکن