شیطان کے چیلے — Page 199
198 ترجمہ:۔آخری مصیبت تیری موت ہے اور تو تین سال بلکہ اس سے قریب مدت میں مر جائے گا۔اسی جگہ محمدی بیگم کے خاوند کے لئے اڑ ہائی سال کی مدت بیان کی گئی ہے۔واقعات کے لحاظ سے موتک قریب“ کا الہام اس طرح پورا ہوا کہ مرزا احمد بیگ اپنی لڑکی کا نکاح مرزا سلطان محمد سے کرنے کے بعد پیشگوئی کے مطابق چھ ماہ کے عرصہ میں ہی ہلاک ہو گیا۔یہ ہلاکت اس کی بیبا کی اور شوخی میں بڑھ جانے کا نتیج تھی۔ورنہ ممکن تھا کہ اس کا داماد پہلے مرجاتا۔نیز اس میں یہ اشارہ تھا کہ اگر مرزا احد بیگ کی موت اپنے داماد سے پہلے واقع ہو جائے تو پھر مرزا سلطان محمد تو بہ کر کے ضرور بچ جائے گا اور اس کے بارہ میں پیشگوئی مل جائے گی۔” آخر المصائب موتک“ سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مرزا احمد بیگ کی موت اس خاندان پر مصیبتوں میں سے آخری مصیبت ہوگی اور اس سے عبرت کے سامان ہونگے اور وہ خاندان دیگر مصیبتوں سے بچ جائے گا اور پیشگوئی کی اصل غرض یعنی تو بہ اور رجوع الی اللہ اور اصلاح پوری ہوگی۔مرز اسلطان محمد کی تو بہ مرزا سلطان محمد کی تو بہ کی وجہ سے جب اس کی موت نہ ہوئی تو بعض لوگوں نے یہ اعتراض کیا کہ اس کی موت پیشگوئی کے مطابق واقع نہیں ہوئی تو اس کے جواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ اعلان فرمایا ” فیصلہ تو آسان ہے۔احمد بیگ کے داماد سلطان محمد سے کہو کہ تکذیب کا اشتہار دے پھر اس کے بعد جو میعاد خدا تعالیٰ مقرر کرے اگر اس سے اس کی موت تجاوز کرے تو میں جھوٹا ہوں۔“ انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 32 حاشیہ ) (ب) ” ضرور ہے کہ یہ وعید کی موت اس سے تھی رہے جب تک کہ وہ گھڑی نہ آ جائے کہ اس کو بیباک کر دے۔سواگر جلدی کرنا ہے تو اٹھو اس کو بے باک اور مکذب بناؤ اور اس سے اشتہار دلا ؤ اور خدا کی قدرت کا انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 32 حاشیہ ) تماشا دیکھو۔“ یہ دونوں اعلان ظاہر کرتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس چیلنج کے بعد اگر مرزا سلطان محمد کسی وقت شوخی اور بے باکی دکھاتے یا مخالفین ان سے تکذیب کا اشتہار دلانے میں کامیاب ہو جاتے تو پھر اس کے بعد اس کی موت کے لئے جو میعاد خدا تعالیٰ قائم فرما تاوہ قطعی فیصلہ کن اور تقدیر مبرم ہوتی اور اس