شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page xxii of 670

شیطان کے چیلے — Page xxii

أَفَلا يَرَوْنَ أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا أَفَهُمُ الْغَلِبُوْنَ (الانبياء: ۵۴) ترجمہ:۔کیا یہ دیکھتے نہیں کہ ہم ان کے ملک کی طرف بڑھ رہے ہیں اور اس کو اس کے کناروں سے کم کرتے چلے جارہے ہیں تو کیا ( اس سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ ) وہ غالب آئیں گے؟ ان کو چھٹی دی جاتی ہے کہ وہ ہر لمحہ اپنی نامرادی اور حرماں نصیبی کا مشاہدہ کرسکیں اور وہ دیکھیں کہ خدا تعالیٰ کی تائید یافتہ جماعت کس طرح یکے بعد دیگرے ترقیات کی منازل طے کرتی چلی جاتی ہے۔اس کی ترقی کا ہر قدم اور ہر سنگ میل مخالفین اور مکذبین کی جہاں شکست و نامرادی کے ثبوت فراہم کرتا ہے ، وہاں یہ اعلان بھی کرتا ہے کہ یہ مخالفت کرنے والے خدا تعالیٰ سے دور ومهجور ہیں اور اسکی مرضی کے مخالف ہیں۔چنانچہ دیکھیں ایک معاند احمدیت مولوی عبدالرحیم اشرف صاحب کیا کہتے ہیں۔انہوں نے لکھا ”ہمارے بعض واجب الاحترام بزرگوں نے اپنی تمام تر صلاحیتوں سے قادیانیت کا مقابلہ کیا لیکن یہ حقیقت سب کے سامنے ہے کہ قادیانی جماعت پہلے سے زیادہ مستحکم اور وسیع ہوتی گئی۔مرزا صاحب کے مقابل جن لوگوں نے کام کیا ان میں سے اکثر تقوی، تعلق باللہ، دیانت، خلوص، علم اور اثر کے لحاظ سے پہاڑوں جیسی شخصیتیں رکھتے تھے۔سید نذیر حسین صاحب دہلوی۔مولانا انور شاہ صاحب دیوبندی، مولانا قاضی سید سلیمان صاحب منصور پوری، مولانا محمد حسین صاحب بٹالوی،مولانا عبدالجبار غزنوی، مولانا ثناء اللہ امرتسری اور دوسرے اکابر رحمہم اللہ وغفر لہم کے بارہ میں ہمارا حسن ظن یہی ہے کہ یہ بزرگ قادیانیت کی مخالفت میں مخلص تھے اور ان کا اثر و رسوخ بھی اتنا زیادہ تھا کہ مسلمانوں میں بہت کم ایسے اشخاص ہوئے ہیں جو ان کے ہم پایہ ہوں۔اگر چہ یہ الفاظ سنے اور پڑھنے والوں کے لئے تکلیف دہ ہوں گے اور قادیانی اخبار اور رسائل چند دن انہیں اپنی تائید میں پیش کر کے خوش ہوتے رہیں گے۔لیکن ہم اس تلخ نوائی پر مجبور ہیں کہ ان اکابر کی تمام کاوشوں کے باوجود قادیانی جماعت میں اضافہ ہوا ہے۔متحدہ ہندوستان میں قادیانی بڑھتے رہے۔تقسیم کے بعد اس گروہ نے پاکستان میں نہ صرف پاؤں جمائے بلکہ جہاں ان کی تعداد میں اضافہ ہوا وہاں ان کا یہ حال ہے کہ ۳۵۰۰۰۰ ء کے عظیم تر ہنگامہ کے باوجود قادیانی جماعت اس کوشش میں ہے کہ اس ۱۶۵۹۱۷۷۵ء کا بجٹ پچیس لاکھ روپیہ کا ہو۔“ (المنیر۔لائل پور ۲ ۳ فروری ۶۵۹۱ء) یہ بیان تو ڈھیل کی اس وجہ کی ایک ہلکی سی تصدیق ہے جو خدا تعالیٰ نے مخالفین انبیاء کو دی ہوتی