شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 139 of 670

شیطان کے چیلے — Page 139

138 کھارہے ہیں۔“ ظاہر ہے کہ یہ فقرہ عام نہیں جیسا کہ راشد علی نے اپنی تلبیس سے اسے عام بنا کر سارے مولویوں کو اس کا مصداق کر دیا ہے۔غالبا یہ راشد علی کا اپنا کوئی انتقام ہے جو وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر کی آڑ میں سب مولویوں سے لے رہا ہے اور انہیں بلا استثناء مردار کھانے والا بنا رہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر تو صاف طور پر چند معتین مذکور مولویوں تک محدود تھی۔جہاں تک ان مولویوں یعنی مولوی محمد حسین بٹالوی ، عبد الحق، احمد اللہ امرتسری اور ثناء اللہ امرتسری کا تعلق ہے انہوں نے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بار بار چینج پر بھی تم نہیں کھائی اور اپنی فعلی شہادت سے یہ ثابت کر دیا کہ پادری عبد اللہ آتھم والی پیشگوئی سچی تھی۔ساتھ ہی انہوں نے اپنے اس طریق سے یہ بھی ثابت کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کے بارہ میں بھی جو لکھا تھا وہ سچ تھا اور وہ جھوٹ کا مردار ہی کھا رہے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عبارتوں سے قطعا یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ آپ نے نیک عوام اور صالح علماء کے خلاف کبھی سخت الفاظ استعمال فرمائے۔اس مسئلہ کو آپ نے خود بڑی وضاحت اور صراحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں۔" ليس كلا منا هذا في اخيارهم بل فى اشرارهم 66 (الہدی حاشیہ۔روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 314) کہ ہم نے یہ جو کچھ لکھا ہے، صرف شریر علماء کی نسبت لکھا ہے، جو علماء شریر نہیں بلکہ اخیار میں سے ہیں، ہم نے ان کی نسبت یہ نہیں لکھا۔پھر فرماتے ہیں : ”نعوذ بالله من هتك العلماء الصالحين وقدح الشرفاء المهذبين ـ سواء كانوا 66 من المسلمين او المسيحين او الآرية “ لحة النور۔روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 409) ہم نیک علماء کی ہتک اور شرفاء کی توہین سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں۔خواہ ایسے لوگ مسلمان ہوں یا عیسائی یا آریہ۔نیز فرمایا: " صرف وہی لوگ ہمارے مخاطب ہیں خواہ وہ بگفتن مسلمان کہلاتے یا عیسائی ہیں جو حد اعتدال