شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 101 of 670

شیطان کے چیلے — Page 101

100 اس آیت میں يَتلُوا عَلَيهِم آیاتہ کے الفاظ میں الفاظ قرآن کا ذکر فرمایا ہے اور يُعَلِّمُهُمُ الكِتاب فرما کر قرآن مجید کے مطالب و معانی اور حقائق و معارف کا تذکرہ فرمایا ہے۔پس مندرجہ بالا آیت صاف طور پر بتا رہی ہے کہ صرف ” قرآن کا پڑھنا علم قرآن حاصل کرنا نہیں ہے۔لہذا کسی شخص سے کسی کا الفاظ قرآن پڑھنے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اس نے علوم دین بھی اس شخص سے حاصل کئے ہیں۔66 دوسری عبارت جو راشد علی نے ”کتاب البریہ صفحہ 180 (روحانی خزائن جلد 13) حاشیہ سے پیش کی ہے۔اس میں صرف اس قدر ذکر ہے کہ چھ برس کی عمر میں ایک استاد سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن مجید پڑھا۔اس میں یہ ذکر نہیں ہے کہ حضور نے علم دین یا’ اسرار دین یا قرآن مجید کے حقائق ومعارف یا معانی و مطالب کسی شخص سے پڑھے، تا یہ خیال ہو سکے کہ حضرت مسیح موعود کی دونوں عبارتوں میں تناقض ہے۔ہمارا دعویٰ ہے کہ " کتاب البریہ کی عبارت میں چھ برس کی عمر میں ایک استاد سے قرآن مجید ناظرہ پڑھنے کا ذکر ہے اور ایام اصلح۔صفحہ 394 روحانی خزائن جلد 14 کی عبارت میں کسی شخص سے قرآن مجید کے مطالب و معارف سیکھنے کی نفی کی گئی ہے۔گویا جس چیز کی نفی ہے وہ اور ہے اور دوسری جگہ جس چیز کا اثبات ہے وہ اور ہے۔ممکن ہے راشد علی یہ کہے کہ سیاق و سباق دیکھنے کی کیا ضرورت ہے دونوں عبارتوں میں قرآنِ مجید ہی کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ہم تو دونوں جگہ اس کے ایک ہی معنے لیں گے۔اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ یہ بالکل ممکن ہے کہ ایک جگہ ایک لفظ بول کر نفی کی ہو۔اور دوسری جگہ اسی لفظ کا استعمال کر کے اس کا اثبات کیا گیا ہومگر اس کے باوجود مفہوم اس لفظ کا دونوں جگہ مختلف ہو۔چنانچہ بغرض تشریح دو مثالیں پیش ہیں۔قرآن مجید کی رو سے بحالت روزہ بیوی سے مباشرت ممنوع ہے مگر بخاری مسلم ومشکوۃ تینوں میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی مندرجہ ذیل روایت درج ہے: - 1 الله عن عائشة رضى عنها قالت كان النبى الله يقبل ويباشر وهو صائم وكان املككم لاربه۔( بخاری۔کتاب الصوم - باب المباشرة الصائم و مشکوۃ۔کتاب الصوم باب تنزیہ الصوم ) کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آنحضرت روزہ میں ازواج کا بوسہ لے