شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 100 of 670

شیطان کے چیلے — Page 100

99 سچ کہا ہے کہ جھوٹ کا حافظہ نہیں ہوتا۔“ قارئین کرام! راشد علی نے حسب معمول اعتراض کرتے وقت علمائے بنی اسرائیل کے نقش قدم پر چلتے ہوئے از راہ تحریف کتاب ایام اصلح ، صفحہ 394 کی نصف عبارت پیش کی ہے۔اصل حقیقت کو واضح کرنے کے لئے عبارت زیر بحث کا مکمل حصہ درج ذیل ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” سو آ نے والے کا نام جو ” مہدی“ رکھا گیا۔سواس میں یہ اشارہ ہے کہ وہ آنے والا علم دین خدا سے ہی حاصل کرے گا اور قرآن اور حدیث میں کسی استاد کا شاگر دنہیں ہوگا۔سو میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا یہی حال ہے۔کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے انسان سے قرآن ، حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے۔پس یہی مہدویت ہے جو نبوت محمدیہ کے منہاج پر مجھے حاصل ہوئی ہے اور اسرار دین بلا واسطہ میرے پر کھولے گئے۔“ ایام اسلح۔روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 394) راشد علی کی پیش کردہ عبارت کے سیاق میں ” علم دین اور سیاق میں اسرار دین“ کے الفاظ صاف طور پر مذکور ہیں۔جن سے ہر اہل انصاف پر یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اس عبارت میں قرآن کریم کے ناظرہ پڑھنے کا سوال نہیں۔بلکہ اس کے معانی و مطالب ، حقائق و معارف کے سیکھنے کا سوال ہے اور عبارت کا مطلب یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔آنحضرت علی نے آنے والے موعود کا نام جو مہدی رکھا۔وہ اس لحاظ سے ہے کہ وہ علوم واسرار دین کسی انسان سے نہیں سیکھے گا۔گویا حقائق و معارف قرآن مجید میں اس کا کوئی استاد نہیں ہوگا۔چنانچہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اس لحاظ سے آپ کا بھی کوئی استاد نہیں۔جس سے آپ نے علوم دین یا اسرار دین کی تعلیم پائی ہو اور ظاہر ہے کہ قرآن مجید کے الفاظ کا بلا ترجمہ و تشریح کسی شخص سے پڑھنا، علم واسرار دین سیکھنے کے مترادف نہیں ہے کیونکہ الفاظ قرآن اور علم قرآن میں خود قرآن مجید نے فرق کیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے "هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الأُمِّيينَ رَسُولاً مِّنهُم يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِم وَيُعَلِّمُهُمُ الكِتَابَ وَالحكمة۔“ ( الجمعه 3) که رسول عربی ﷺ کو اللہ تعالی نے مبعوث فرمایا ہے۔آپ لوگوں کے سامنے اللہ تعالیٰ کی آیات (یعنی الفاظ قرآن) پڑھتے ، ان کا تزکیہ نفس کرتے اور ان کو کتاب (یعنی قرآن مجید ) اور حکمت کا علم بھی دیتے ہیں۔